دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
جعفریہ آرگنائزیشن پاکستان کے تحت حسینیہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی کے محمد ابراہیم آڈیٹوریم لیاقت نیشنل لائبریری میں عالمی تناظر میں امام حسین علیہ السلام کا پیغام کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کی صدارت علامہ شہشناہ حسین نقوی نے کی۔
اجتماعی شادیاں کمیٹی کی جانب سے عید مباہلہ کے بابرکت موقع پر اجتماعی شادیوں کے ذریعے 19 جوڑوں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کر دیا گیا۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بیسویں اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہاکہ عزادار کا موقف یہ ہے کہ مجلس ضرور ہوگی اس کیلئے جتنی بھی قربانی دینا ہو گی، دیں گے، عزادار کو تیار رہنا چاہیے، پُرامن احتجاج کیلئے، اگر مجلس عزا روکی جائے تو اس پر احتجاج ہوگا، عزادار احتجاج کریں گے، ہمارا فلسفہ محاذ آرائی نہیں، بلکہ قربانی ہے اور ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں، دریغ نہیں کریں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ محرم تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے۔ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب باوفا کے ساتھ یزیدی سلطنت کو عبرتناک شکست دی۔
وزیراعظم آستانہ قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، آستانہ جانے سے پہلے وہ تاجکستان کا دو روزہ دورہ کریں گے۔
سابق صدر اسلام آباد بار کونسل ریاست آزاد نے کہا کہ تحریک کربلا کا منشور ظلم وزیادتی اور ناانصافی کے خلاف قیام کرنا تھا، یہاں بھی عوام کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے، ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوموں کا ساتھ دینا چاہیے، عالمی استعمار دین اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جنہیں روکنا اور ناکام بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
میثم تمار جن کی کنیت ابو سالم تھی اور جنہیں گوہر نایاب سمجھتے ہوئے امیر المومنین ؑ نے غلامی سے نجات دلاکر آزاد کیا اور یہ خبر دی کہ ”میرے بعد عنقریب حق کی حمایت کی پاداش میں تمہیں گرفتار کرکے سولی پر لٹکایا جائے گا
جامعہ الصادقؑ اسلام آباد میں منعقد ہونیوالی کانفرنس سے علامہ سید حسنین عباس گردیزی، علامہ محمد امین شہیدی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، علامہ حیدر علوی، مولانا یاسین قادری، علامہ اقبال حسین بہشتی، علامہ زاہد کاظمی، علامہ اصغر عسکری، علامہ ثمر عباس نقوی نے خطاب کیا۔
ڈاکٹر فدا عابدی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غدیر کا واقعہ فقط ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ غدیر کے أثار قیامت تک انسان کے زندگی میں شامل ہیں۔ آج کے جوانوں کو چاہئے کہ فقط منقبت خوانی کو اہمیت دینے کے بجائے پہلے خود سے غدیر کو سمجھے، پھر غدیر کا پیغام اور اہداف دوسروں تک منتقل کرے۔