دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ تمام جلوسوں کو روایتی بنانے پھر ایک ایک کرکے انہیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی چنانچہ پہلے مرحلے میں لائسنس ہولڈرز کی وفات پر وارثوں کے نام لائسنس منتقل کرنا بند کیا جانا دوسرے مرحلے میں بعض روایتی جلوسوں کو سازش کے تحت شرپسندوں کے ذریعے رکوایا جاتا ہے اور انتظامیہ وعدہ کرتی ہے کہ یہ جلوس آئندہ سال نکلوا دیا جائے گا لیکن اگلے سال جلوس نکالنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔
محرم الحرام کی آمد پر ہر وہ دل جو امام حسین علیہ السلام سے عشق کرتا ہے غمزدہ ہوجاتا ہے چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی بلکہ غیر مسلم بھی امام عالی مقام سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کا غم مناتے ہیں ۔
پشاور پاکستان میں محرم الحرام کے حوالے سے پیام رسانان کربلا کی ذمہ داریاں کے عنوان سے منعقدہ سالانہ استقبال محرم الحرام صوبائی کانفرنس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے شرکت اور خطاب کیا۔
مکتب اہل بیت (اہل تشیع) کی نمائندگی کے بغیر اسلامی نظریاتی کونسل، اسلامی نہیں کہلا سکتی، یہ صرف سنی نظریاتی کونسل ہوگی
محرم الحرام ایثار و قربانی کا مہینہ ہے حضرت سید الشہداء امام حسین ؑ نے قربانی کے ذریعے دین اسلام کو قیامت تک رسول اللہ صہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر گامزن کردیا اب کوئی بھی یزید وقت اس کی حقیقی تصویر کو مسمار نہیں کر سکتا
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: اگرچہ عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام برپا کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے اپنے انداز رائج ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان اپنے الگ اور مخصوص انداز سے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت اور ان کے مشن کی ترویج کے لیے محافل برپا کرتے ہیں۔
امام جمعہ خارگ نے ثقافتی مقاومت کے میدان میں خواتین کے منفرد کردار کہ متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن حجاب کو قومی اور مذہبی اقدار کے دائرے سے نہیں نکال سکتا۔
قم المقدسہ میں مختلف مقامات پر عشرہ محرم الحرام کا آغاز
تقریب سے امام جمعہ گمبہ سکردو و مؤسس مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ حجۃ الاسلام سید احمد علی شاہ حسینی، کرنل قاسم صاحب، حجۃ الاسلام آغا حسن فلسفی اور گلگت بلتستان کی رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے خطاب کیا۔