غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
امت اسلامی، اسلامی معاشرے اور خاص طور پر شیعہ سماج کے عمل کی بنیادیں یہی ہیں جو ان کی فتح اور کفار کی مایوسی کا سبب اور ہماری قوت و توانائی کا سرچشمہ ہے۔
️دشمني کے وسائل: دشمن خصوصا عالمی استعماري طاقتيں اور صھیونیزم اس موجودہ دور میں دولت ،منفی پروپیگنڈا اور فریب دینے والے ظاہري نعرے مثلا حقوق بشر، حقوق خواتين اور ملتوں کے اساسی حقوق کا سہارا لیتے ہوئے ملتوں پر ظلم کو تحمیل کرنے اور انساني معاشروں میں فساد، منافقت، ریاکاری اور دھوکا دھی کے لئے کوشش کررہے ہيں اور اس کام کے لئے متعدد وسائل کے ذریعہ مدد دے رہے ہيں۔
آپ کی شخصیت کی ایک نمایاں صفت، تحقیق و جستجو تھی۔ سیاسی حالات ہوں یا تنظیمی معاملات، قومی مسائل ہوں یا ملی مشکلات، ان کی تفہیم اور حل میں آپ افواہوں یا دوسروں کی اندھی تقلید کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپ کسی قسم کی مصلحت کا شکار ہوتے تھے،
آپ نے منجی عالم بشریت امام زمان عجّل اللہ فرجہ الشریف سے خصوصی عقیدت کی بنا پر اپنے ایم فل تھیسسز کا عنواں ہی "احادیث تطبیقی مہدویت در صحاح ستہّ و کتب اربعہ" انتخاب کیا اور اچھے نمبر حاصل کیے
اے اللہ! مجھے ایسا ڈرنے والا بنادے گویا تجھے دیکھ رہا ہوں مجھے پرہیزگاری کی سعادت عطا کر اور نافرمانی کے ساتھ بدبخت نہ بنا
روز عرفہ: یہی وہ دن ہے جسمیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کواپنی اطاعت وعبادت کی طرف بلایا ہے آج کے دن ان کے لیے اپنے جود وسخا کا دستر خوان بچھایا ہے اور آج شیطان کو دہتکارا گیا اور زلیل وخوار ہوا ہے
گر قربانی کی تاریخ کو تاریخی اوراق میں تلاش کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے جسے حضرت آدمؑ کے زمانے میں پایا جا سکتا ہے۔ حضرت آدمؑ کے بیٹوں کی مشہور قربانی جسے انسانیت کی تاریخ میں سب سے پہلی قربانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۲۷ سے لے کر ۳۰ تک اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
تربیتِ بشر ایک دینی و الہیٰ فریضہ ہے۔ اسی فریضے کی انجام دہی کیلئے خدا نے انبیا مبعوث کئے اور کتابیں نازل کیں۔ انسان تخلیقی طور پر خالق ِکائنات کا ایک شہکار ہے۔ ہماری اس کائنات کے امن، حُسن اور ترقی و کمال کا کوئی بھی خواب اس شہکار کی تعلیم و تربیت کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔ دراصل تربیت انسان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انہیں نکھارنے کا نام ہے۔
کسی بھی حکومت کو مشکل فیصلے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس بہترین آئیدیالوجی ہو، مضبوط قؤہ فیصلہ رکھتی ہو، مصمم ارادے کا حامل ہو، آزادانہ پالیسی بنانے کا اختیار رکھتی ہو اور ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کی جرأت و حوصلہ رکھتی ہو۔