غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
شہیدہ سیدہ آمنہ بنت الہدیؒ تاریخ اسلام کی ایک عظیم شخصیت ہےجنہوں نے اپنے جلیل القدر بھائی آیت اللہ العظمیٰ شہید محمد باقر الصدرؒ کے شانہ بشانہ تبلیغی،ثقافتی،جہادی اور سیاسی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
صدقہ کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس کے مقدار مہم نہیں ہے کہ انسان بہت زیادہ مال دے،بلکہ جتنا وہ دے وہی کافی ہے بلکہ بعض روایات میں آیا ہے:"اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شِقُّ تَمْرَةٍ فَكَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ"؛ بچو تم دوزخ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو اور یہ بھی نہ پائے تو اچھی سی کوئی بات کہہ کر سہی۔
اگر اسرائیل اور ہندوستان کے حکمران شہداء کے خون کا تمسخر اڑاتے ہیں تو ہمارے حکمران بھی شہداء کے وارثوں کو کبھی ٹشو پیپر کے ٹرک بھیجنے، کبھی شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر کہنے اور کبھی سانحہ اے پی ایس کے شہید بچوں کی ماوں سے احتجاج کرنے کے بجائے مزید بچے پیدا کرنے کو کہتے ہیں۔
کچھ عرصے کی مختصر سی خاموشی جس میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ یا دھماکہ نہ ہو اور اس وقفے کو امن کا نام دیا جاتا ہے ، در حالیکہ وہ کسی مزید بڑے واقعے کی تیاری کا پیش خیمہ بن رہی ہوتی ہے۔
سلطان عبد الحمید ثانی کا نام ہمیشہ تاریخ فلسطین میں یاد رکھا جاتا ہے۔ مسئلہ فلسطین حق وباطل کی ایک ایسی سرخ لکیر ہے کہ جس نے اپنے حمایتیوں اور مخالفین کو تاریخ میں رقم کر رکھا ہے۔ سلطان عبدالحمید ثانی ترکی کے شہر استنبول میں 21ستمبر 1842ء کو پیدا ہوا اور آپ نے 1876ء سے 1909ء تک سلطنت عثمانیہ کے منصب پر ذمہ داری نبھائی۔
اگر قرآن میں کسی طرح کا انحراف و کجی نہیں ہے،”غیر ذی عوج’‘تو امام حسین کے سلسلے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی باطل کی طرف مائل نہیں ہوئے،”لم تمل من حق الی الباطل
سانحہ پشاور میں شہداء کے قاتلوں میں وہ سب لوگ بھی شامل ہیں، جنہوں نے آج تک اپنی زبان و بیان کے ساتھ معاشرے میں شیعہ عقائد کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائیں اور بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام کی راہ ہموار کی۔ دینِ اسلام سچائی کا پیکر ہے
شیعہ حضرات کے مطابق جو شخص حیاتِ پیغمبرﷺ میں ایمان لایا اور تاحیات اُس ایمان پر قائم رہا، صرف وہی صحابی کہلانے کا حق دار ہے۔ ان کے مطابق جس نے ایمان لانے کے بعد رسولﷺکی اطاعت نہیں کی، تو وہ صحابی بھی نہیں رہا۔ یعنی اہلِ تشیع کے ہاں حکمِ رسولﷺ کے مقابلے میں خطائے اجتہادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔