مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























علماء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ علماء کو اپنے اردگرد پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے، پاکستان کے تمام علماء اگر صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کریں تو ملک امن و محبت کا گہوارہ بن جائے
انہوں نے فرمایا داڑھی رکھنا کم از کم اتنا واجب ہے کہ کنگھی ہو سکے۔اگر داڑھی اس سے کم ہو تو یہ داڑھی کافی نہیں ہے اور مزید یہ کہ انسان گناہ گار ہوگا۔
اگر کسی شخص کی اولاد میں سے سب سے بڑی بیٹی ہو اور دوسرے نمبر پر بیٹا ہو تو کیا ماں باپ کی قضا نمازیں اور روزے اس بیٹے پر واجب ہیں؟
وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی لطف اللہ گلپائیگانی کے فرزند نے اپنے وفد کے ہمراہ آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی.
انہوں نے گلگت بلتستان میں علمائے کرام کو مذہبی، تبلیغی اور سیاسی میدان میں بھرپور کردار ادا کرنے پر تاکید کی اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور قومی پلیٹ فارم کی جانب سے جی بی میں عوامی فلاحی کام اور منصوبوں کا ذکر کیا۔
جو شخص نماز کی تیسری رکعت میں ہو اور اسے یہ شک ہو کہ قنوت پڑھا ہے یا نہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ اپنی نماز کو تمام کرے یا شک پیدا ہوتے ہی اسے توڑ دے؟
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو بالعموم اور عالم اسلام کو بالخصوص جن بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے اور انسانی معاشرے جس گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں اس میں انسانوں کو ہدایت اور روحانیت کی ضرورت ہے جو انہیں حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرکے اور اس پر عمل کرکے حاصل ہوسکتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم امام ؑ کی سیرت اقدس پر عمل کرکے انسانیت کو مسائل سے نجات دلائیں، عدل و انصاف سے مزین معاشرے تشکیل دیں اور اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔
انہوں نے چائنا انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمین سے آن لائن ملاقات کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کی بہتری اور سرمایہ کاری پر گفتگو ہوئی۔
مجلس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ خطیب خطابت میں لوگوں کو انکی ذہنیت کے مطابق مطالب دیں اور خطیب کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے نفس کو موعظہ کریں۔ جو شخص منبر پر جاکے دین کی باتیں کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے نفس کو پاکیزہ بنائے تاکہ اس کی باتیں دل سے نکلیں اور دل میں اتر جائيں۔ اس کا عمل اس کی باتوں کی تائید کرے اور اس پر گواہ ہو۔