مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























جس وقت عباسیوں نے مامون عباسی پر اپنی بیٹی کی شادی، امام محمدتقی علیہ السلام سے کرنے کے متعلق اعتراض کیا کہ یہ نوجوان ہیں اور علم و دانش سے بہرہ مند نہیں ہیں جس کی وجہ سے مامون نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ خود ان کا امتحان لے لو۔ عباسیوں نے علماء اور دانشمندوں کے درمیان سے "یحییٰ بن اکثم”کو اس کی علمی شہرت کی وجہ سے چنا، مامون نے امام جواد علیہ السلا م کے علم و آگہی کو پرکھنے اور جانچنے کے لئے ایک جلسہ ترتیب دیا۔ اس جلسہ میں یحییٰ نے مامون کی طرف رخ کر کے کہا: اجازت ہے کہ میں اس نوجوان سے کچھ سوال کروں؟۔ مامون نے کہا : خود ان سے اجازت لو ۔ یحییٰ نے امام محمدتقی علیہ السلا م سے اجازت لی۔ امام علیہ السلا م نے فرمایا: یحیی! تم جو پوچھنا چاہو پوچھ لو ۔
انہوں نے کہاکہ امام محمد تقی علیہ السلام کا وجود بابرکت جو چھوٹی عمر ہونے کے باوجود امامت کے منصب پر فائز تھے اور قیادت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے نظام حاکم کیلئے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مامون عباسی اہل تشیع کی جانب سے بغاوت سے سخت خوفزدہ تھا لہذا انہیں اپنے ساتھ ملانے کیلئے مکاری اور فریبکاری سے کام لیتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ علماء ہی کا کردار ہے کہ عالمی سامراجی سازشوں کے باوجود آج تشیع سر اٹھا کر اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ انہوں نے آئمہ جماعت سے امید ظاہر کی کہ وہ علمائے حقہ کا کردار ادا کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں جبکہ عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کردار میں علماء کا بھرپور ساتھ دے کر ملک کے مستقبل کو روشن بنائیں۔
جامعہ الکوثر کے شعبہ انگریزی کے ایک وفد نے اسلامی نظریاتی کونسل کا مطالعاتی دورہ کیا۔اس موقع پر کونسل کے چیرمین قبلہ ایاز نے اراکین وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے اغراض و مقاصد اور آئین پاکستان کی اسلامی نظریات سے کماحقہ ہم آہنگی کے لئے اپنی کوششوں سے آگاہ کیا۔
شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔ مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔
اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر انہوں نے اپنے پیغام میں کہاہےکہ انقلاب اسلامی ایران اُس الہی نظام کامقدمہ ہےجس کی بشارت خداتعالی نےقرآن کریم میں دی ہے، وہ الہی نظام جس کاپرچم اُن لوگوں کےہاتھ میں ہوگاجومستضعف قراردیےگئےہیں اورخداانہی لوگوں کوزمین کی وراثت عطاکرےگا۔
میں جس جگہ ملازمت کرتا ہوں وہ قریبی شہر سے شرعی مسافت سے کم فاصلہ پر واقع ہے اور چونکہ دونوں جگہ میرا وطن نہیں ہے، لہذا میں اپنی ملازمت کی جگہ دس روز ٹھہرنے کا قصد کرتا ہوں تا کہ پوری نماز پڑھ سکوں اور روزہ رکھ سکوں اور جب میں اپنے کام کی جگہ پر دس روز قیام کرنے کا قصد کرتا ہوں تو دس روز کے دوران میں یا اس کے بعد قریبی شہر میں جانے کا قصد نہیں کرتا، پس درج ذیل حالات میں شرعی حکم کیا ہے؟
اس سربلندی اور کامیابی پر بسیج روحانیون آی-کے-ایم-ٹی نے پوزیشن حاصل کرنے والی عزیز طالبات اور ان کے والدین محترم اور اہالیان دراس، باغ خمینی، شلکچے اور دارالقرآن کے تمام اساتذہ کرام، طلاب و طالبات، بالخصوص مکتب میں محنت کش کمیٹی ممبران کی خدمت میں مبارکباد پیش کیا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام محمد تقی ؑ نے تا قیامت رہبری و رہنمائی کا سامان بہم کرنے کے لیے جس انداز سے حکمت عملی ترتیب دی اور جس طرح حکمرانوں اور انحرافی طبقات کی سازشوں کا مقابلہ فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ حضرت امام محمد تقی ؑ ؑ کی سیرت کا مطالعہ کرکے اس پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کی جدوجہد کریں اورمکمل استقامت اور واضح اور روشن راستے پر گامزن رہیں تاکہ دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کی جا سکے