غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























اس تقریب میں قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے علاوہ اعلیٰ فوجی قیادت میجر جنرل حاجی زادہ، معروف مصنف و ہدایت کار ابراہیم حاتمی کِیا اور مشہور اداکار جعفر دہقان بھی موجود تھے۔
جہاد اسلامی نتظیم کے سکریٹری جنرل زیاد نخالہ نے اپنے خط میں پورے فلسطین خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی مجاہدین بالخصوص جہاد اسلامی تحریک اور اس کی فوجی شاخ القدس بریگیڈ کی بھرپور مزاحمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: جہاد اسلامی کی استقامتی بریگيڈز کی موجودگي کے سبب کوئي دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب مغربی کنارے کے علاقے میں صیہونی حکومت کے ساتھ جھڑپیں نہ ہوں۔
اردوغان آستانہ عمل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران پہنچے ہیں۔ ترک صدر اور سید ابراہیم رئیسی بھی ملاقات کریں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے پیر کی شام کو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور ان کے ہمراہ آئے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ مختلف میدانوں میں دونوں ملکوں کے تعاون میں فروغ کی گنجائش تعاون کی موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے استحکام پر مبنی ایران کی پالیسی کے پیش نظر، دونوں ملکوں کے تعلقات میں بنیادی تبدیلی آنی چاہیے۔
آپ طلبہ سے میری پہلی سفارش بے عملی اور مایوسی سے پرہیز کی ہے۔ ہوشیار رہیے۔ یعنی اپنا خیال رکھیے، اپنے دل کا خیال رکھیے، ہوشیار رہیے کہ بے عملی کا شکار نہ بن جائيے، نا امیدی میں مبتلا نہ ہو جائیے۔
مجمع سیدالشہداء العالمیہ قم کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مایہ ناز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین حسین مرادی دولت آبادی نے کہاکہ ماہ رمضان کا سب سے بڑا درس خود سازی ہے اور خودسازی کا سب سے اہم اور پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر اور اپنے کردار و رفتار پر تنقیدی نظر ڈالے۔
انھوں نے قرآن مجید کی گہرائي سے تعلیم حاصل کرنے اور اس پر گہرائي سے غور کرنے کو، اس آسمانی کتاب کی عمیق، باطنی اور اعلی تعلیمات و معارف تک رسائی کا راستہ بتایا اور کہا: ان معارف کو حاصل کرنے کی شرط، دل کی تطہیر اور روح کی پاکیزگي ہے اور یہ چیز جوانی میں بہت زیادہ آسان ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ نے عید بعثت کی مناسبت سے خطاب میں فرمایاکہ یوکرائن میں ایران جنگ بندی کا طرفدار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں جنگ ختم ہو جائے تاہم کسی بھی بحران کا حل تبھی ممکن ہے جب اس کی جڑوں کو پہچان لیا جائے۔ یوکرین کے بحران کی جڑ امریکہ کی بحران ساز پالیسیاں ہیں اور یوکرائن ان پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔