غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























پاکستانی معروف مذہبی سکالر سکینہ مہدوی نے کہاکہ اس تقریب کا مقصد تمام ادیان و مذاہب تک ائمہ معصومین علیہم السلام کے پیغام کو پہنچانا اور پاکستانی مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی پیدا کرنا ہے جو ہر سال ایوان اقبال لاہور کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوتا ہے اور مختلف مذہبی اور سیاسی طبقات کے رہنماوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔
مرجع عالی قدر نے مومنین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کم از کم روزانہ ایک مرتبہ محاسبہ کرنا حصول تقوی کے لیے پہلا قدم ہے۔ محاسبے کا بہترین وقت رات سونے سے پہلے کا ہے۔
آپ کی شخصیت کی ایک نمایاں صفت، تحقیق و جستجو تھی۔ سیاسی حالات ہوں یا تنظیمی معاملات، قومی مسائل ہوں یا ملی مشکلات، ان کی تفہیم اور حل میں آپ افواہوں یا دوسروں کی اندھی تقلید کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی آپ کسی قسم کی مصلحت کا شکار ہوتے تھے،
وطن عزیز میں عزاداری امام حسینؑ کے انعقاد میں درپیش مسائل،بانیان و لائنسسداران وکارکنان پر شیڈول فور کی پابندیوں ،آمد محرم الحرام میں عزادای اور عزاداروں کے تحفظ اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں 26 جولائی کو علماء و ذاکرین کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے
علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے بجائے امت کو متحد اور یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ اسلام ایک دوسرے کو قریب لانے اور لوگوں کو جوڑنے کا حکم دیتا ہے، نفرت کے بجائے رواداری اور محبت کی ضرورت ہے۔
علامہ امین شہیدی نے فلسفۂ حج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حج، اللہ کی طرف سے مسلمانوں پر مخصوص شرائط کے ساتھ واجب قرار دیا گیا ہے؛ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ حج کے پس منظر میں موجود فلسفے کے مطابق اسےانجام دیں۔
المصطفیٰ یونیورسٹی میں شہید نے علمی میدان اور خطابت دونوں میں نام کمایا۔ شہید کی دوسری اہم خصوصیت جہد مسلسل اور کوشش سے عبارت تھی۔ وہ کم سوتے تھے اور مباحثہ و مطالعے میں گھنٹوں صرف کرتے تھے۔ تیسری اہم خصوصیت معنویت میں ان کا بلند مقام ہے۔
ہم نماز عیدمیں ۹ مرتبہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! محمد و آل محمد پر درود و سلام بھیج اور ہمیں ہر اس نیکی میں داخل کر دے جس میں تو نے محمد و آل محمد کو داخل کیا اور ہر اس برائی سے ہمیں بچا کہ جس سے تو نے محمد و آل محمد کو بچایا۔
ان کا کہنا تھا قربانی کا فلسفہ یہی ہے کہ اپنی خواہشات اور اعمال کو پروردگار کی مرضی کے تابع بنایا جاے اپنی پسندیدہ چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اور اس کی قربت کو حاصل کرنا اس عید کا بنیادی ترین مقصد ہے