غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























ملاقات میں قومی، ملی و ملکی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوران ملاقات موجود ملکی صورتحال، ملک میں شروع ہونے والی دہشتگردی کی لہر اور قومی یکساں نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
معروف عالم دین اور خطیب علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ او آئی سی وزراء کانفرنس کے موقع پر حکومت اور حزب اختلاف صبر و تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکہ یہ ملک و قوم کی عزت اور حرمت کا مسئلہ ہے،
عید نوروز کا یہ تہوارگذشتہ تین برسوں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اجتماعی طور پر نہیں منایا گیا لیکن اس سال کورونا وائرس کی ویکسنیشن کا مرحلہ مکمل ہونے اور کافی حد تک اس منحوس وائرس پر قابو پانے کی وجہ سے یہ جشن جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔
دنیا میں باطل قوتیں مجتمع ہو رہی ہیں۔عالمی آثار سے لگتا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور قریب ہے۔ان کے لشکر میں شامل ہونے کے لیے ہمیں اپنے عمل و کردار کو بے داغ بنانا ہو گا۔امام زمانہ علیہ السلام کی تعجیل کے لیے محض خواہش کافی نہیں بلکہ باعمل ہونا شرط ہے۔ہمیں اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم اپنے مولا و آقا کا سامنا کر سکیں۔
انہوں نے اسلام قبول کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ مطالعے ، تحقیق اور ریسرچ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی کہ دین مبین اسلام ہی سب سے سچا اور مکمل دین ہے اس کے علاوہ بعض رشتہ دار اور دوست واحباب جو مسلمان تھےان کے ساتھ نشست و برخاست اور گفتگو سے بھی دین مبین اسلام سے آشنا ہوئی۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے 11 تا 17 شعبان المعظم ’’ہفتہ فکرِ مہدویت‘‘ کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں خصوصی مذاکرے اور محافل کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں نوجوانوں کو ظہورِ امام زمانؑ اور انقلابِ امامؑ کیلئے زمینہ سازی میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بتایا جائے گا۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور سینیئرز خصوصی نشستوں سے خطاب کریں گے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور نامور عالم دین علامہ افتخار حسین نقوی کا کہنا تھا کہ مکتب تشیع کیخلاف انتہائی گہری سازش ہو رہی ہے، اس ملک میں جان بوجھ کر تکفیریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسکا راستہ روکنا ہوگا۔
سانحہ پشاور کیخلاف لاہور کی فضا بھی سوگوار رہی، مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او پاکستان لاہور ڈویژن کے زیراہتمام لاہور پریس کلب سے پنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔