صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























یورپ میں قرآن مجید کی شان میں گستاخی کے بعد ایران اور دنیا بھر کے ممالک میں ماتمی انجمنوں اور قرآنی اداروں کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رابطہ اس سے رکها جاتا ہے جس کا کوئی فائده ہو اگر آل محمد علیہم السّلام معاذ اللہ مردہ ہیں تو الله تعالٰی قرآن میں پیغمبرِ اِسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو مردوں کے ساتھ رابطے سے منع کر رہا ہے انک لا تسمع الموتی تم مردے کو نہیں سن سکتے
امام حسین علیہ السلام عاشورا کی صبح کو جنگ بدر کے بارے میں نازل ہونے والی آیتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ سورہ آل عمران کی آیت 178 اور 179 کہ تلاوت کرتے تھے: وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِی لَهُمْ خَیْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِی لَهُمْ لِیَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِینٌ»، «مَا کَانَ اللَّهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا أَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتَّی یَمِیزَ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ ….»
انہوں نے واضح کیا ہے کہ پارہ چنار میں قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ جنگ کے دوران ایک شخص عید نظر فاروقی مکتب اہل بیت کے خلاف مغلظات کہتا رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ابھی تک اس شرپسند کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے گرفتار کیا جائے۔
ملت جعفریہ میں تشویش پائی جاتی ہے،ریاستی ادارے حالات معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں
آج، مدارس میں مروجہ نظریہ یہ ہے کہ تبلیغ دوسرے نمبر پر ہے، پہلی جگہ دوسری چیزیں مثلا علمی کام وغیرہ ہیں۔ دوسرا نمبر تبلیغ کا ہے اور ہمیں اس نظرئے سے عبور کر کے تبلیغ کو پہلی ترجیح میں لانا ہوگا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے معصوم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرکے علاقے میں امن بحال کروائے۔
شیعہ علما ءکونسل کے رہنماو ں نے متنبہ کیا کہ اگر ریاستی ادارے پارا چنار کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو ہم سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ پاکستان بھر سے شیعیان حیدر کرار اپنے غیرت مند محب وطن ایمانی بھائیوں کے تحفظ کے لیے نکلیں۔
ان کا کہنا تھا ہے کہ ولایت و امامت کو برادران اہل سنت بھی تسلیم کرتے ہیں۔لیکن اہل تشیع نے فرمان رسول کو صحیح معنوں میں سمجھا اور اس پر عمل کیا ۔ہمارے برادران اہل سنت اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکے۔