صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نیشابور اور سبزوار کے شہداء میں یاد کانفرنس کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باطل قوتوں نے تاریخ میں ہمیشہ شہداء کی یاد اور قربانیوں کو مٹانے کی کوشش کی ہے اسی شہدا کی یاد منانا اور تقریب منعقد کرنا جہاد سے کم نہیں ہے اس کام کی قدردانی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سبزوار اور نیشابور کی تاریخی اور علمی شاخت رکھنا جوانوں کا وظیفہ ہے۔
حجۃ الاسلام ابراهیمیان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حوزات علمیه کے عہدیداران اپنی دینی اور مذہبی ذمہ داریوں کو دل سے قبول کرتے اور نبھاتے ہیں، کہا کہ زندگی کے تمام معاملات بالخصوص مدیریت و سربراہی میں اخلاقیات کا سبق قرآن کریم اور اہل بیت (ع) کی سیرت سے سیکھنا چاہیئے۔
انہوں نے کتاب و کتابخوانی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی سید علی خامنہ ای کا قول نقل کیا کہ آپ فرماتے ہیں: کتنا اچھا ہے کہ ہم خود بھی روزانہ کتاب پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی عادت ڈالیں نیز اپنے گھر والوں کو بھی اس کا عادی بنائیں۔
حضرت امام مہدیؑ کی گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ امام مہدی ؑکو گندی گالیاں دے کر احسن باکسر نے مسلمانوں کی دل آزاری کرکے خود کے لئے جہنم کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔
انہوں نے 1948ءکے ا علان کردہ29 مئی امن پسندو ں کے عالمی دن (ورلڈ پیس کیپر ڈے) پر کہاکہ دنیا میں امن تب قائم ہوگا جب طاقت کا توازن درست ہو، اس کےلئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو توانا اور مستحکم رکھا جائے۔
اس موقع پر کامیاب مقالہ نویس حضرات میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے، مذکورہ نشست کے بعد فارغ التحصیلان نے مختلف عنوانات کے تحت جاری امور کی انجام دہی میں انہیں پیش آنے والی مشکلات اور اس بابت اپنے تاثرات و مشاہدات بیان کئے۔
حوزہ علمیه اصفہان کے اس عظیم استاد نے مختلف موضوعات پر بہت سی تالیفات یادگار چھوڑی ہیں، جو کہ جوان طالب علموں کیلئے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں نہایت مؤثر ہیں
ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ملکی معیشت کیلئے انتہائی اہم ترین ہے، البتہ ملکی و عوامی مفاد کا یہ اہم ترین بین الاقوامی منصوبہ گزشتہ عشرہ میں سرد خانے کی نذر رہا، ارض وطن جو اس وقت معاشی و اقتصادی گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ایسے حالات میں اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے،
محترمہ مریم جعفری سراجی نے مزید کہا کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کا ایک لقب کریمہ ہے، یعنی آپ سخاوت اور مہربانی کے ساتھ بہت زیادہ بخشنے اور عطاء کرنے والی ہیں۔ اور ان عطاؤں کا بغیر کسی مہربانی اور احسان کے ہونا آپ (س) کی عظیم الشأن شخصیت کی وجہ سے ہے۔