مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے بھائی عزیز مکارم کی رحلت پر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی اور مرحوم کے خاندان کی خدمت میں تعزیت پیش کی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام سرکاری اسکولز اور کالجز 7 جون سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اس حوالے سے وفاقی نظامت تعلیمات نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے بانی انقلاب اسلامی کی32 ویںبرسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اڑھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کو شکست دے کر اسلامی انقلاب برپا کیا۔حکومت قائم کرنے کے بعد 11سال رہبر انقلاب رہے۔اپنے بیٹے کے نام وصیت میں لکھا کہ میرا کوئی ذاتی گھر نہیں۔ خُمین میں کچھ زمین ہے جو میرے بڑے بھائی کے تصرف میں ہے۔
ہمارے عزیز امام (خمینی رحمۃ اللہ علیہ) کا طرز زندگی قرآن کی اس آیت پر استوار نظر آتا ہے: "کہہ دو کہ میں تمہیں ایک ہی چیز کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لئے قیام کرو" (سورہ سبا، آیت نمبر 46)۔ میں نے کئی سال قبل مرحوم وزیری کی ڈائری میں ایک تحریر دیکھی۔ مرحوم وزیری مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے وہ تحریر دکھائی "اللہ کے لئے قیام کرو"۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی 32 ویں برسی کے موقع پر ٹیلی ویژن سے اپنے براہ راست خطاب میں فرمایا کہ آج پورا ایران امام خمینی (رح) جیسی عظیم شخصیت کی یاد میں سوگوار و عزادار ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امام خمینی (رح) کا ارادہ مضبوط اور مستحکم تھا اور خرد مند اور دور اندیش تھے۔
امام خمینیؒ نے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں چاہا بلکہ اسلامی انقلاب کے بعد اپنی وراثتی زمین بھی غریب کسانوں میں بانٹ دی
امام خمینی نے اپنی ساری زندگی عالم اسلام کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی جدوجہد میں بسر کی، عالمی استکباری و استعماری قوتیں آج بھی امت مسلمہ کے درمیان منافرت پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔
امام خمینی جانتے تھے کہ اسرائیل کو محض فلسطین تک محدود رہنے کے لئے مسلط نہیں کیا گیا ہے بلکہ اسرائیل عالم اسلام پر قبضہ چاہتا ہے، اسی لئے امام خمینی نے شروع سے اسرائیل کے خلاف جدوجہد شروع کی
امام خمینی ؒ کی عظیم شخصیت نے جہاں ایران کی عوام کو قدیم زمانے سے چلے آنے والے فاسد بادشاہی نظام سے نجات بخشی وہیں پوری دنیا کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت سے افق کے عالم پر نمودارہوئی