پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























علامہ اقبال نے مسلمانوں کی بیداری کے لیے وہی کام کیا جو نو سو سال پہلے فردوسی نے فارسی زبان بولنے والوں اور ایرانیوں کو بیدار کرنے کے لیے انجام دیا تھا۔
انیس النقاش ایک با بصیرت و آگاہ و زمانہ شناس اور دنیا میں آنے والی تبدیلوں پر کہری نگاہ رکھتے تھے۔
نام کے تو ہم بھی زندہ ہیں لیکن شاعر مشرق علامہ اقبال نے زندگی کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے محمدعلی سدپارہ جیسے لوگ ہی حقیقی معنوں میں زندہ ہوتے ہیں۔ ظاہری شکل و صورت میں وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہی تھے مگر جس چیز نے اسے علی سدپارہ بنادیا وہ ان کا پختہ ارادہ ، عزم و ہمت، پہاڑوں کی طرح بلند حوصلہ اور اپنے مقصد پر محکم یقین وغیرہ تھا۔
مختلف شہروں کا سفر کرنے والا جرمن بلاگر نے پاکستان میں ایک سال گزارنے کے بعددین اسلام سے متأثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح تنظیمی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے تنظیمی دوستوں کو خارج کیا جا رہا ہے اور تنظیمی اہداف کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ تنظیمی دوستوں کے ساتھ روئیے سے دلبرداشتہ ہوکر بطور احتجاج اپنی ذمہ داری سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔
اس انقلاب نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ و ہل چل مچا دی ہے، یہ صحیح معنوں میں ایک اسلامی و عوامی انقلاب ہے، جس کی راہنمائی دانشوروں نے کی، اس عظیم جدوجہد کی صف اول میں مسلمان دینی طبقے، طلباء، مزدور، عام چھوٹے ملازم، کسان اور کاریگر تھے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین محمد نذیر عرفانی نے انقلاب اسلامی کے 42ویں سالگِرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انقلاب اسلامی جن اہداف کے لئے برپا کیا گیا وہ ایسے ہیں کہ جس پر پوری امت مسلمہ متحد و متفق ہے ،انقلاب کے لئے عوامی جدوجہد کاجو طریقہ کار اختیارکیا گیا، اس سے استفادہ کرکے دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اسی قسم کی کوششیں کی جا سکتی ہیں.
تعلیمی اداروں کے ذریعے ہی تمام سیاسی جماعتوں کو نظریاتی اور حقیقی قیادت میسر آتی تھی مگر جب سے ضیاءالحق کے آمرانہ دور سے طلبا یونینز پر پابندی لگی ہے اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں میں کاغذی اور جعلی قیادت کی بہتات ہوگئی ہے۔طلباء یونینز پہ 37سال سے طویل پابندی آمرانہ سازش ہے۔
چہلم کی مجلس سے سربراہ اُمت واحدہ علامہ محمد امین شہیدی، شہداء کمیٹی کوئٹہ کے رکن علامہ موسیٰ حسینی قمی اور بزرگ عالم دین علامہ غضنفر علی حیدری نے خطاب کیا