مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























آج امریکہ اور یورپ ان کی آزادیوں کے لیے ان کی حمایت نہیں کرتے بلکہ یہ ان کو خطے میں اپنے مفادات کا محافظ سمجھتے ہیں اور خطے کے ممالک کو توڑنے سے ڈرائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی بھی تربیت ایسے کر دی ہے کہ ان کی فکر و طرز زندگی مغربی رنگ میں رنگا جا چکا ہے۔
چیئرمین تحریک حسینیہ پاکسنتان نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کو حکومت کی جانب سے یکساں قومی نصاب کے حوالے سے مرتب شدہ کتب میں موجود خامیوں اور غلطیوں سے آگاہ کیا اور تفصیلات تحریری طور پر پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے زیارات مینجمنٹ پالیسی میں موجود غیر ضروری شکوں اور زیارات گروپ آرگنائزرز کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔
مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئر مین اور بادشاہی مسجد کے خطیب و امام مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا ہے مختصر لباس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کا بیان قابل تحسین ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لئے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟، جہاں تک تکنیکی پہلووٴں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دئیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے
اللہ پر ایمان انسانی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔کافر بھی جب مصیبتوں میں گِھر جاتے ہیں تو دل سے مانتے ہیں کہ کوئی ذات بچانے والی ہے۔
برسی قائد کے موقع پر مقالہ نگاری میں حصہ لینے والوں میں سے علامہ شیخ غلام محمد غروی کے پوتے مولانا تصدق ہاشمی نے قائد گلگت بلتستان کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا
الإمامُ عليٌّ (عَلَيهِ الّسَلامُ) : مَن لَم يَصحَبْكَ مُعِينا على نفسِكَ فَصُحبَتُهُ وَبالٌ علَيكَ إن عَلِمتَ . حضرت امام علی(علیه السلام) نے فرمایا: جس […]
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: حکومتیں مردوں کے کردار کا میدان امتحان ہیں۔
علامہ شیخ غلام محمد کی برسی اسلام کی نشأة ثانیہ کی ایک تحریک ہے جس میں سب سے پهلے علامہ صاحب کے مد مقابل قوتوں کا تعارف ضروری ہے.وه کون لوگ تھے جس کے مقابلے میں علامہ صاحب مرحوم کو سخت جدوجهد کرنا پڑی اور اپنی جدوجهد کے تمام مراحل کو کامیابی سے گزارنے کا دعوی اس لئےکرتا ہوں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہے.ان کے مقابلے میں جتنے فریق تھے ان تمام فریقوں کو جلد یا بدیر شکست فاش ہوگئی اور مختلف آمروں کے پردوں میں لپٹی ہوئی سازشوں کا جال بہت جلد ٹوٹ گیا.ایک عوامی تحریک کے طور پر یہ تحریک چلی اور عوام کی ہی تائید اور حمایت سے یہ تحریک کامیاب ہوئی.