صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام برحق صبر و استقامت کا وہ نمونہ تھے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔دین اسلام کے سربلندی کے لیے خاندان رسالت نے عظیم اور قابل رشک قربانیاں دیں۔امام موسی کاظم علیہ السلام نے زندگی کا بیشتر حصہ اور آخری ایام حالت اسیری میں گزار کر حق و صداقت کی طرف داری کا بہترین درس دیاہے۔
امام موسی کاظم ؑ کو کبھی کسی نے تر شروئی اور سختی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا اور انتہائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظر ائے
جماعت علمائے عراق کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آیت اللہ سیستانی کی طرف سے جہاد کا فتوی نہ ہوتا اور امریکہ کی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے ابو مہدی المہندس اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بھائیوں کی جانثاری اور جانفشانی نہ ہوتی تو پوپ ہرگز ہرگز موصل کا سفر نہ کر سکتے تھے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے 25رجب المرجب کو ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم ؑ کے یوم شہادت پر کہا ہے کہ 35 سالوں پر محیط دور امامت میں آپ کی علمی، روحانی اور معاشرتی زندگی، آپ کے خاندان، اصحاب اور شاگردوں سے متعلق واقعات اور علمی اور کلامی مباحثوں کے تذکروں کے بغیر آپ کے حالات زندگی کا احاطہ ممکن نہیں۔
شہید کے افکار پر عمل ہی ہماری طرف سے شہید کو سب سے بڑا تحفہ ہوگا، ہمیں عمل کے میدان میں شہید کی راہوں پر چلنا ہے، مرکزی صدر عارف حسین نے کہا کہ شہید نقوی کی شخصیت نوجوانوں کیلئے آئیڈیل ہے
حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دس سال میں کوئی سختی اور مشکلات نہیں تھی۔ انھوں نے اس زمانے میں قرآن کی تعلیم اور اسلامی تعلیم دینے میں مشغول رہے۔
پوپ فرانسیس نے ہوائی جہاز میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آیت اللہ سیستانی کو ایک متواضع اور دانا شخصیت پایا، ان سے ملاقات میرے لئے روحانی مسرت کا باعث ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ اگر ہم مظبوط خاندان ! محفوظ عورت! مستحکم معاشرہ چاہتے ہے تو ہمیں حضرت فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہا کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا پڑےگا کیونکہ انہوں نے ایسا خاندان مرتب کیا جو قیامت تک بے مثل رہے گا ایسے راہنما و رہبر بیٹے جو دین اسلام کی بقا اور شان ہیں.
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے زائرین حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے روضے کی زیارت کرنے جا رہے تھے کہ ان پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا جس میں ایک خاتون زائرہ شہید اور آٹھ زائرین زخمی ہوگئے۔