2

غیبت امام مہدی عج(قسط25)

  • News cod : 26793
  • 20 دسامبر 2021 - 10:29
غیبت امام مہدی عج(قسط25)
میر علّام ، مقدس اردبیلی کے ایک شاگرد کہتے ہیں: ''آدھی رات کے وقت میں نجف اشرف میں حضرت امام علی عليہ السلام کے روضہ اقدس کے صحن میں تھا، اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے ہی نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی ہیں تو میں جلدی سے چھپ گیا۔ وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ اچانک دروازہ کھل گیا اورآپ روضہ مقدس کے اندر داخل ہوگئے! اور کچھ ہی دیر بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

سلسلہ بحث مہدویت

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

6 علمی اور فکری پنا ہ گاہ
آئمہ معصومین عليھم السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اورہمیشہ لوگ انہی ہستیوں کی تعلیمات کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔
️غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام عليہ السلام کی خدمت میں شرفیاب اور براہِ راست فیض حاصل نہیں کرسکتے، لیکن آپ الٰہی علوم کے معدن و سر چشمہ ہیں کہ جومختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔
غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماء کے بہت سے سوالوں کے جوابات ،امام کے خطوط جو کہ توقیعات کے نام سے مشہور ہیں ان کے ذریعہ دیے جاتے تھے ۔ کمال الدین ، ج٢، باب ٤٥،ص٢٣٥۔٢٨٦.
امام زمانہ عليہ السلام اسحاق بن یعقوب کے خط اوران کے سوالات کے جواب میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
”خداوندعالم تمھیں ہدایت کرے اور تمھیں ثابت قدم رکھے! آپ نے ہمارے خاندان اور چچا زاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے میں جو سوال کیا، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے، لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ میرا پیروکار نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح عليہ السلام کے بیٹے کے انجام کی طرح ہے… اور جب تک تم اپنے مال کو پاکیزہ نہ کرلو ہم اس کو قبول نہیں کرتے ۔اور جو رقم تم نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے… اور جو شخص ہمارے مال کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کرلیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے… اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کی کیفیت کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو ،اور اس چیز کو سیکھنے کی زحمت نہ کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعا کیا کرو کہ جس میں تمہارے لئے بھی گشائش(اور آسانیاں) ہوں گی۔
اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کے پیروکار ہیں”۔
(کمال الدین،ج٢،باب٤٥،ص٢٣٧.)
غیبت صغریٰ کے بعد بھی شیعہ علماء نے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام عليہ السلام سے بیان کرکے ان کا راہ حل حاصل کیا ہے۔
میر علّام ، مقدس اردبیلی کے ایک شاگرد کہتے ہیں:
”آدھی رات کے وقت میں نجف اشرف میں حضرت امام علی عليہ السلام کے روضہ اقدس کے صحن میں تھا، اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے ہی نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی ہیں تو میں جلدی سے چھپ گیا۔
وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ اچانک دروازہ کھل گیا اورآپ روضہ مقدس کے اندر داخل ہوگئے! اور کچھ ہی دیر بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک وہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی عليہ السلام کو ضربت لگی تھی۔ کچھ دیر وہاں رکے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے۔ میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھایہاں تک کہ وہ مسجد حنّانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی انہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں. انہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی عليہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ آج جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز مجھے بتائیں!
موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن اس شرط پر بتاتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا! اور جب میں نے انہیں مطمئن کر دیاتو انھوں نے فرمایا: کبھی کچھ مسائل میں زیادہ مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی عليہ السلام سے توسل کرتا ہوں آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہوگیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی عليہ السلام کی بارگاہ میں جاؤں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔
جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا ، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی عليہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے ۔اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ:
مسجد کوفہ میں جاؤ اور حضرت قائم عليہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔
چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ کی) محراب کے پاس گیا
اور امام مہدی عليہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جارہا ہوں”۔ (بحار الانوار ،ج٥٢، ص١٧٤.)
(جاری ہے….)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26793

مزید خبریں