1

غیبت امام مہدی عج(قسط27)

  • News cod : 27421
  • 02 ژانویه 2022 - 12:25
غیبت امام مہدی عج(قسط27)
 خود امام مہدی عليہ السلام فرماتے ہیں: ''اَکثِرُْوا الدعَاء َ بِتَعجِیلِ الفرجِ، فانَّ ذَلکَ فَرَجُکُم''۔(کمال الدین،ج2،ص 239) میرے ظہور میں تعجیل کے لیے کثرت سے دعا کریں,یقینا اس میں تمہارے لیے نجات و رھائی ہے.  یہاں پر مناسب ہے کہ مرحوم حاجی علی بغدادی (جو اپنے زمانہ کے نیک اور صالح شخص تھے) کی دلچسپ ملاقات کو بیان کریں، لیکن اختصار کی وجہ سے اس ملاقات کے چنداہم نکات کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں:

سلسلہ بحث مہدویت

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)
حاصل کلام یہ کہ اگرچہ امام زمانہ عليہ السلام کے جمالِ پْر نور کی زیارت اور دلوں کے اس محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن آئمہ علیہم السلام خصوصاً امام عصر عليہ السلام اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصود تک پہنچنے کے لئے چِلّہ کاٹیں، یا جنگلوں میں مارے مارے پھریں؛
بلکہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہئے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کے لئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے اورآپ کے عظیم مقاصد کے حصول کے راستے پر قدم بڑھانا چاہئے تاکہ جلد از جلدبشریت کی اس آخری امید کے ظہور کا راستہ ہموار ہوجائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔
خود امام مہدی عليہ السلام فرماتے ہیں:
”اَکثِرُْوا الدعَاء َ بِتَعجِیلِ الفرجِ، فانَّ ذَلکَ فَرَجُکُم”۔(کمال الدین،ج2،ص 239)
میرے ظہور میں تعجیل کے لیے کثرت سے دعا کریں,یقینا اس میں تمہارے لیے نجات و رھائی ہے.
یہاں پر مناسب ہے کہ مرحوم حاجی علی بغدادی (جو اپنے زمانہ کے نیک اور صالح شخص تھے) کی دلچسپ ملاقات کو بیان کریں، لیکن اختصار کی وجہ سے اس ملاقات کے چنداہم نکات کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں:
”وہ متقی اور صالح شخص ہمیشہ بغداد سے کاظمین جایا کرتے تھے اور وہاں دو اماموں (امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی علیہما السلام ) کی زیارت کیا کرتے تھے۔
وہ کہتے ہیں: خمس اور دیگر رقوم شرعی میرے ذمہ تھیں، اسی وجہ سے میں نجف اشرف گیا اور ان میں سے ٠ ٢تومان عالم متقی فقیہ شیخ انصاری کو اور٠ ٢ تومان عالم فقیہ شیخ محمد حسین کاظمی کو اور٠ ٢ تومان آیت اللہ شیخ محمد حسن شروقی کو دیئے اور ارادہ یہ کیا کہ اپنے ذمہ دوسرے20 تومان بغداد واپسی پرآیت اللہ آل یاسین کو دوں۔
جمعرات کے روز بغداد واپس آیا، سب سے پہلے کاظمین گیا اور دونوں اماموں کی زیارت کی۔
اس کے بعد آیت اللہ آل یاسین کے بیت الشرف پر گیااور اپنے ذمہ خمس کی رقم کا ایک حصہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ اس میں سے باقی رقم (انشاء اللہ) بعد میں خود آپ کو یا جس کو مستحق سمجھوں ادا کردوں گا.
انھوں نے اپنے پاس رکنے پر اصرار کیا لیکن میں نے اپنے ضروری کاموں کی وجہ سے معذرت چاہی اور وداع کیا اور بغداد کی طرف روانہ ہوگیا.
جب میں نے اپنا ایک تہائی سفر طے کرلیا تو راستہ میں ایک باوقار سید بزرگوار کو دیکھا، جوسبز عمامہ پہنے ہوئے تھے اور ان کے رخسار پر ایک کالے تِل کا نشان تھا اوروہ بھی زیارت کے لئے کاظمین جارہے تھے.
وہ میرے پاس آئے ، مجھے سلام کیا اور گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے گلے لگایا اور مجھے خوش آمد کہا اور فرمایا: خیر تو ہے کہاں جا رہے ہو؟
میں نے عرض کی: زیارت کرکے بغداد جارہا ہوں، انہوں نے فرمایا: آج شب جمعہ ہے کاظمین واپس جاؤ (اور آج کی رات وہیں رہو) !
میں نے عرض کی: میں نہیں جاسکتا۔
انہوں نے کہا: تم جا سکتے ہو، جاؤ تاکہ میں گواہی دوں کہ میرے جد امیر المومنین عليہ السلام اور ہمارے دوستوں میں سے ہو اور شیخ بھی گواہی دیتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
(وَ اسْتَشْہِدُوا شَہِیدَینِ مِنْ رِجَالِکُم) (اور اپنے دو افراد کو گواہ بناؤ)بقرہ.
حاجی علی بغدادی کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے آیت اللہ آل یاسین سے درخواست کی تھی کہ میرے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں جس میں اس بات کی گواہی ہو کہ میں اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں اورمحبان میں سے ہوں تاکہ اس نوشتہ کو اپنے کفن میں رکھوں۔
میں نے سید سے سوال کیا: آپ مجھے کیسے پہچانتے ہیں اور کس طرح گواہی دیتے ہیں؟
فرمایا: انسان کس طرح اس شخص کو نہ پہچانے جو اس کا کامل حق ادا کرتا ہو؟
میں نے عرض کی: کونسا حق؟!
فرمایا: وہی حق جو تم نے میرے وکیل کو دیا ہے۔
میں نے عرض کیا: آپ کا وکیل کون ہے؟
فرمایا: شیخ محمد حسن!
میں نے عرض کی:
کیا وہ آپ کے وکیل ہیں؟
فرمایا: ہاں۔
مجھے ان کی باتوں پر تعجب ہوا۔
مجھے ایسے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان بہت پرانی دوستی ہے جس کو میں بھول چکا ہوں، کیونکہ انہوں نے ملاقات کے شروع میں ہی مجھے نام سے پکارا ہے! اور میں نے یہ سوچا کہ موصوف چونکہ سید ہیں لہٰذا خمس کی جورقم میرے ذمہ ہے اس میں سے کچھ ملنے کی توقع رکھتے ہیں.
لہٰذا میں نے کہا: کچھ حق (سہم سادات) میرے ذمہ ہے اور میں نے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے رکھی ہے۔
انہوں نے تبسم کیا اور
کہا: جی ہاں! آپ نے ہمارے حق کا کچھ حصہ( نجف میں) ہمارے وکیلوں کو ادا کردیا ہے۔
میں نے پوچھا: ”کیا یہ کام اللہ تعالی کی بارگاہ میں قابل قبول ہے”؟
انہوں نے فرمایا: ہاں!
(جاری ہے……)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=27421

مزید خبریں