صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حجت الاسلام مصلح نے حضرت فاطمه معصومه سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کو دین اسلام کی نظر میں خواتین کی اہمیت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومه (س) حضرت فاطمه زہراء سلام اللہ علیہا کی پرچھائی ہیں کہ جو ایران میں ہیں۔ آپ عصمت و طهارت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کے نمائندے سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے انتخابی حلقوں میں جاکر مہم چلاتے ہیں۔ عوام ان پر اعتبار کرکے اپنا ووٹ دیتے ہیں اور منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں آتے ہیں۔ یہ سب ان کی فداکاری اور شہدا کی جانثاری کی مرہون منت ہے۔
حجت الاسلام فرحزاد نے عشرہ کرامت اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی میلاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت معصومہ کے شہر قم آنے سے پہلے بھی قم ایک مقدس شہر تھا اور یہاں کے رہنے والوں نے ولایتِ اہلبیت علیہم السلام کو قبول کیا تھا۔
جامعه الزہراء (س) کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران محترمہ ناہید طیبی نے حضرت معصومه قم (س) کی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ (س) کی ولادت، آپ کی وفات اور آپ کی زندگی کا لمحہ بہ لمحہ تاثیر گزار ہے اور ہمیں اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے کہا: آج شہر قم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی برکت سے دنیا بھر میں اہل بیت علیہم السلام کے علم و معارف کو پھیلانے کا مرکز بن گیا ہے۔
محترمہ مریم جعفری سراجی نے مزید کہا کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کا ایک لقب کریمہ ہے، یعنی آپ سخاوت اور مہربانی کے ساتھ بہت زیادہ بخشنے اور عطاء کرنے والی ہیں۔ اور ان عطاؤں کا بغیر کسی مہربانی اور احسان کے ہونا آپ (س) کی عظیم الشأن شخصیت کی وجہ سے ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین قریشی نے کہا کہ شیعہ و اہلسنت و الجماعت کے درمیان اس اتحاد کا ختم ہو جانا تمام مسلمانوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا، کیونکہ یہی اتحاد و بھائی چارگی ہے کہ جس کی وجہ سے دشمن ہماری صفوں میں گھسنے سے عاجز ہے۔
روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں قائم صحن کی دیکھ بھال کے شعبہ نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے کے جشن میلاد کے موقع پر روضہ مبارک
آستان مقدسہ حضرت معصومه س کی نیوز سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، عشرۂ کرامت اور حضرت فاطمه معصومه سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر، حرم کے خواتین کے ثقافتی اور بین الاقوامی امور کے شعبہ نے جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے تعاون سے دنیا بھر کے 40 ممالک کی 650 سے زائد لڑکیوں کی میزبانی کی۔