صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے کہاکہ آل سعود کی دہشت گرد حکومت کے ہاتھوں دسیوں مظلوموں کی شہادت کی خبر سن کر بہت دکھ اور افسوس ہوا۔یہ حکومت بظاہر اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہلاتی ہے لیکن وہ درحقیقت استکبار اور غاصب صہیونیوں کی خادم ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ بھارت امید کرتا ہے کہ یہ قرارداد مستقبل میں پیش کی جانے والی مخصوص مذاہب فوبیا قراردادوں کیلئے نظیر نہیں بنے گی جس سے اقوام متحدہ ایک مذہبی کیمپ کی صورت اختیار کرلے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے زیر اہتمام عظیم الشان تحلیلی نشست "وطن عزیزپاکستان کی تازہ ترین حالات کا جائزہ"سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ امت واحدہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین علامہ امین شہیدی سعودی عرب، یمن، شام، عراق، نائیجیریا، پاکستان کے چپے چپے میں ہونے والے ظلم و ستم پر صدای احتجاج بلند کرنا ہمارا اخلاقی، دینی اور انسانی فریضہ ہے۔
ایرانی شہر قم کے گورنر سيدمحمدتقی شاہچراغی نے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی علوی گرگانی کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کل قم میں سوگ کا اعلان کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ظالم آل سعود حکام کے ہاتھوں مظلوم انسانوں اور موالیانِ اہل بیت علیہم السلام کے بے دردی سے قتل کا واقعہ بہت تلخ اور افسوسناک ہے۔آل سعود کی ظالم حکومت کا دورانیہ ظلم و ستم سے پُر ہے۔ یہ ظالم حکام اپنے مخالفین کے انسانی حقوق کی پرواہ نہیں کرتے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔
آیت اللہ علوی گرگانی کے انتقال پرملال پر علماء کرام، حوزہ علمیہ بالخصوص مرحوم پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ خداوند متعال مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عنایت فرمائے۔
آیت اللہ علوی گرگانی نے فقاہت، استنباط احکام اور تدریس کے ذریعے علوم محمد و آل محمد کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے گراں قدر علمی و فقہی آثار چھوڑے ہیں۔
حضرت آیت اللہ علوی نے ایرانی سال 1318 کے خرداد کے مہینے (20 جمادی الثانی 1359ھجری) میں نجف اشرف میں آنکھ کھولی۔ آپ کی پیدائش سے آپ کے والد گرامی بہت مسرور ہوئے کیونکہ اس وقت تک کئی بیٹے پیدا ہوئے تھے لیکن سب بچپن میں ہی دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور آپ نے امام علی(ع) کی روضہ اقدس میں توسل کرکےامامؑ سے ایک عالم اور نیک اولاد کی درخواست کی تھی۔
بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی علوی گرگانی کچھ ہی دیر پہلے انتقال فرما گئے.