صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
عالم محقق مرحوم آیۃ اللہ آقای الحاج سید محمد سعید حکیم رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر نجف کے عظیم الشان حوزۂ علمیہ (اعلی دینی تعلیمی مرکز)، اس کے مراجع تقلید اور علمائے کرام، عظیم طباطبائي حکیم گھرانے خاص طور پر مرحوم کے فرزندان اور پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
اس جلیل القدر عالم دین کی جانب سے کلمۃ اللہ کی سربلندی،دین مبین کی نصرت،تعظیم شعائر الٰہی،مسجد سہلہ کی نئی عمارت کے قیام میں سر انجام دی جانے والی خدمات اور حضرات معصومین علیہم السلام خاص طور پر حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں عرض ادب اور اخلاص،مرحوم کی آخرت کا سامان ہیں۔
آیت اللہ سید حکیم نے خود کو دین و مذہب کی مدد اور علم اور اہل علم کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے بعد علم کی عظیم میراث چھوڑی ہے کہ جس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی قم المقدسہ کے طالب علم مولانا محمد یوسف صوفی کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
آیت اللہ بشیر نجفی نے نجف اشرف میں مرجع تقلید حضرت آیت اللہ سید محمدسعید حکیم کی رحلت پر جاری تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ " آیت اللہ العظمی سید محمدسعید حکیم" کا اس فانی دنیا سے ملکوت اعلیٰ اور اپنے جد امجدحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور پدر بزرگوار حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی آغوش کی جانب کوچ کرنا امت اسلامی کے اور بالخصوص مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے لیے غم و اندوہ کا باعث ہے"۔
میں اس عالم ربانی کی رحلت پر حضرت امام زمان عجل الله تعالی فرجه الشریف، مراجع عظام تقلید، رہبر معظم انقلاب اسلامی، حوزه علمیہ نجف و حوزات علمیہ، حکیم خاندان اور مخصوصا ان کے فرزندان، شاگردان اور ان کے ارادتمندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور خداوند متعال سے اس مرجع عالیقدر کے لیے رحمت اور رضوان و مغفرت اور ان کے پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتا ہوں۔
بسم الله الرّحمن الرّحیم اس حقیر کے دیرینہ رفیق کار جنرل ڈاکٹر سید حسن فیروز آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر مرحوم کی اہلیہ محترمہ، بچوں اور دیگر پسماندگان کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تمام دعوت نامے مختلف ملکوں کے اسلامی مراکز اور اسلامی ثقافتی اداروں کو صوبۂ خراسان رضوی کے ادارہ ثقافت و ارتباطات اسلامی اور اس فیسٹیول کے سکریٹریٹ کی جانب سے ارسال کئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ غیر ممالک میں ایرانی سفارتخانوں کے ثقافت کے شعبوں اور خانۂ فرہنگ ایران کے ذرائع نے بھی یہ دعوت نامے بھیجنے میں مدد کی ہے۔
انہوں نے مدرسہ کی کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا اور طلاب کرام سے مخاطب ہوکر کہا کہ خدا ہمارے اعمال پر ناظر ہے اور جن محافل میں ہم حاضر ہوتے ہیں انہیں کم نہ سمجھیں اور اپنے اصلی ہدف جوکہ حصول تعلیم ہے اس سے غافل نہ ہوں۔