قازقستان اور ترکمانستان کا دورہ ثمر آور؛ پڑوسی ممالک کے ساتھ 14 معاہدوں پر دستخط، صدر پزشکیان
























مدرسہ امام علی علیہ السلام میں یومِ ولادتِ با سعادت حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے ایک باوقار تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی اور اس موقع پر فارغ التحصیل طلاب کو علمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وفاق ٹائمز |تبلیغ، تدریس کے ساتھ ساتھ مشہد مقدس میں اردو زبان طلاب کی علمی مشکلات کے پیش نظر مدرسہ آیت اللہ خوئی میں شعبہ اردو زبان کی تاسیس میں پیش پیش رہے
سربراہ حوزہ علمیہ ایران، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے اپنے پیغام میں پاکستان میں کان کنوں کے قتل کے دلخراش واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملت پاکستان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے اور وطن عزیز سے دہشت گردوں اور داعش کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور آپریشن کا مطالبہ کیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے کئی سالوں سے سے مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، اس میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری بری طرح متاثر ہے۔ ان کے دو ہزار کے قریب لوگ نشانہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں مذہب مخالف سوچ اور ان لوگوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہیں جو مظلوم لوگوں کو جھوٹے بہانے سے قتل کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں اور متعدد بے گناہ خاندانوں کو سوگوار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ایسے عقلی، انسانیت اور آسمانی مذاہب کے منافی واقعات اور حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئے ، تمام انسانی مذاہب حتی کہ غیر الہی مذاہب بھی ایسے دردناک اور ناجائز طریقے کے قتل کو تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پاکستان میں،خاندان عصمت و طہارت کے 11عقیدت مندوں اور پیروکاروں کی تکفیری گمراہ کن گروہوں کے ہاتھوں شہادت نے ایک بار پھر شیعیان و دوستان اہل بیت علیہم السلام کے خلاف دہشت گرد داعش اور صہیونی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو برملا کردیا۔
ایرانی بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد باقر تحریری ان شہادتوں اور قربانیوں سے مسلمانوں اور حکومتوں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں،کہ اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے غمزدہ دلوں کو سکون ملے۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان انسان ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔انہیں اپنا بیان واپس لے کر ہزارہ قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور فی الفور لواحقین کے مطالبے کے مطابق کوئٹہ پہنچ کر انہیں آئندہ ایسے کسی بھی واقعات کی یقین دہانی کرانی چاہئے