دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
امام جمعہ سکردو بلتستان حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین آغا عنایت الموسوی کی یاد میں منعقدہ سیمنار کے لیے ارسال کردہ پیغام میں کہا ہے کہ آپ نہ صرف اپنے محلے میں بلکہ پورے علاقے میں ایک مضبوط قاضی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، اور قضاوت میں یدطولی رکھتے تھے.
حسینیہ بلتستانیہ قم میں بلتستان (گول )کے معروف عالم دین حجت الاسلام والمسلمین مرحوم آغا سید عنایت حسن الموسویآغا سید عنایت حسن الموسوی کی دینی اور علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختلف تنظیموں اور انجمنوں کی شراکت سے ایک عالیشان پروقار سیمنار منعقد کیا گیا.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں انسان کی ضرورت کی ہر چیز مہیا کر دی ہے اور زندگی کے تمام تقاضے اس کی دسترس میں ہیں.
حجۃ الاسلام شیخ فدا حسن عبادی نائب امام جمعہ سکردو نے جامع مسجد سکردو میں جمعہ کے خطبے میں تقوی الہی سے قریب اور برائیوں سے دوری اختیار کرنے کی تاکید کی۔
جامعہ مدینة العلم کے سربراہ نے کہا کہ آج ایک عظیم عالم مجاھد کی وفات کی خبر سنی جس کا جتنا اظہار غم کیا جائے کم ہے صنف روحانیت ایک علمی ستارہ سے محروم ہو گئی مرحوم سبزواری کا چلا جانا ایک ایسا خلا ہے جو صدیو پورا نا ہوسکے گا۔
مجلس وحدت المسلمین پاکستان شعبہ قم کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام محمد عادل مہدوی نے کہا کہ ہفتہ قبل پاکستان کے شہر کوئٹہ کو نشانہ بناکر غریب کان کنوں کے گلے کاٹے گۓ اور اب بغداد میں بم دھماکہ کرا کر بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لی گئی۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آج ایران مختلف ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کے باوجود،الحمدللہ! استقامت اور استحکام کے ساتھ کھڑا ہے اور مختلف شعبہ جات میں قابل ذکر ترقی بھی کی ہے،جب اس مشکل دور میں ملک استقامت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہا، تو اب بھی استقامت اور استحکام کے ساتھ اسی طرح آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمِ اسلام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مل کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو شیعہ سنی مشترکات، اختلافات کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔جبکہ ہندو، یہودیت، عیسائیت، بدھ مت اور سکھ مذاہب میں انسانی حوالہ سے اشتراک کے باوجود فکری، اخلاقی، نظریاتی اور عقائد کے حوالہ سے اختلاف موجود ہے۔
پردے کے متعلق یہ بات پھیلانا کہ یہ طالبان کی خواتین کا لباس ہے۔ایسا کہنا اور ان سے نسبت دینا غلط ہے۔جبکہ شریعت دینی ہمیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔کہ ہم پردہ کریں تاکہ آخرت میں آل محمد علیہم السلام سے شفاعت کا باعث بن سکیں