زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے فاضل طالبعلم جواں سال عالم دین ،مقرر خوش بیاں، پیکر اخلاص و عمل حجۃ الاسلام مولانا سید سفیر سجادشیرازی تلہ گنگ کے قریب ایک جان لیوا ایکسیڈنٹ کے سبب انتقال کر گئے ہیں۔
افکارِ شہید حسینیؒ سیمنار سے "شہید قائد کے اقوال اور علماء کرام کی ذمہ داریاں" کے موضوع پر مرکزی صدر مجلس علماء مکتبِ اہلِبیتؑ پاکستان علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے خطاب کیا۔
تمام مکاتب فکر کے علماء نے سوئیڈن میں قرآن مجید کی بیحرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ بزرگ عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی اور ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی موجود تھے۔
مجمع جہانی اہل بیت علیہم السّلام کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین رمضانی نے پاکستان کی سنی عظیم دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ کراچی کا دورہ کیا اور اس مدرسے کے اساتذہ سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ 6 جولائی کا دن یوم تجدید ِعہد ہے کہ عوام کے ساتھ معاشرے کے سنجیدہ طبقات ایک بار پھر نئے حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے حقوق کی جدوجہد تیز کریں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی، فلاحی، جمہوری ریاست بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
اتوار کے روز آیت اللہ رضا رمضانی اور ان کے وفد کے ارکان کا کراچی میں ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان، بعض پاکستانی علماء اور خانہ فرہنگ کے سربراہ نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر استقبال کیا۔
مدرسہ امام المنتظر قم کے سربراہ نے کہا کہ امام محمد باقر ؑ امت مسلمہ کے سیاسی مسائل سے بے حد پریشان رہتے تھے۔ اگرچہ خلافت پر نبی امیہ قابض تھے اور نبی امیہ کے آئمہ اہلبیت ؑ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے مگر آپ اسلامی مملکت کو لاحق بیرونی خطرات پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔
مدرسہ امام خمینیؒ قم کے شعبہ علوم فنون قرآت کے سربراہ اور نامور قرآنی استاد حجۃ الاسلام والمسلمین سید مجتبیٰ اصیل رضوی نے وفاق ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ جتنے ترجمہ قرآن کے اردو زبان میں ہوئے ہیں کسی اور زبان میں نہیں ہوئے لیکن جو تحقیقات اور علمی کام گذشتہ علماء نے کیا ہے اس کو آج کل کے زمانے کے مطابق اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ان عالمی مستکبر ممالک کی غلامی چھوڑ کر خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر آزادی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔