مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے ایک بیان میں حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کی بے حرمتی اور تین علماء پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے ماهِ رمضان المبارک کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک تمام نیکیوں اور تربیتی پروگراموں کے لئے ایک اہم موقع ہے، لہذا ان قیمتی مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور صاحب الامر امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے لئے دعا کریں۔
اسلام کے ابتدائی دور میں کسی جنگی دباﺅ کے بغیر اسلام قبول کرنے والے اہل یمن پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے، تیل مشینری پر حملوں کی مذمت اور بے گناہ یمنی مسلمانوں کے خلاف جنگی جارحیت پر خاموشی کہاں کا انصاف ہے؟
آئین کی تشریح کے انداز کی واضح اور روشن رہنمائی کے ذریعہ ذاتی مفادات کے سدباب کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا واحد حل آئین اور قانون کی حکمرانی میں مضمر قرار دیا۔
اسلام انسان کو سب سے پہلے از لحاظ انسان دیکھتا ہے اور نجف اشرف میں موجود مرجعیت نے اسی پر ماضی میں بھی کام کئے ہیں اور مستقبل میں بھی ہم اسی پر عمل پیرا رہیں گے
انھوں نے قرآن مجید کی گہرائي سے تعلیم حاصل کرنے اور اس پر گہرائي سے غور کرنے کو، اس آسمانی کتاب کی عمیق، باطنی اور اعلی تعلیمات و معارف تک رسائی کا راستہ بتایا اور کہا: ان معارف کو حاصل کرنے کی شرط، دل کی تطہیر اور روح کی پاکیزگي ہے اور یہ چیز جوانی میں بہت زیادہ آسان ہے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ملک بھر میں رمضان المبارک 1443 ہجری کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا، جس کے تحت اتوار کو پاکستان بھر میں پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
علامہ ساجد نقوی کے مطابق رمضان المبارک کی آمد پر ایک طرف حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے لئے بنیادی اشیائے ضروریہ کی فوری اور سستی فراہمی کو یقینی بنائے‘ بدامنی‘ دہشت گردی پر قابو پاکر عوام کو امن و تحفظ فراہم کرے‘ احترام ماہ صیام کو ہر حوالے سے یقینی بنائے‘ سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر قابو پائے
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے ڈیرہ اسمٰعیل خان میں دینی درسگاہ کی طالبات کے ہاتھوں استانی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کو مذہبی منافرت کی تعلیم اور ناقص تربیت کا فقدان کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اسلام ،شک اور خواب و خیال کی بنیاد پر کسی کے جرم کے تعین کی اجازت نہیں دیتا۔