مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
رئیس الوفاق آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت اجلاس جامعتہ المنتظر میں ہوگا،23مارچ کو جامعتہ المنتظر کے 68ویں سالانہ جلسے کی تقریبات کا آغازہوگا
حجۃ الاسلام والمسلمین الشيخ قیس الطایی النجفی نے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغ دین اسلام کا کام اس وقت بڑے اور گہرے چیلنجوں سے دوچار ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تبلیغ کے کام میں ایسے لوگ لگ گئے ہیں جو اسلامی شریعت سے ناواقف ہیں۔ انہیں نہ اسلامی عقائد معلوم ہیں اور نہ ہی وہ اسلام کے اندر کشادگی اور نبی اسلام (ص) کی رحمدلی سے واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ رسول (ص) اہل شرک، بت پرستوں اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ کس طرح پیش آتے تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی نے کہاکہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطیٰ میں ناجائز اور قابض و ظالم سے زیادہ کچھ نہیں، اب ایک نئے دھوکے اور عیاری کے انداز میں اس کے مصداق کہ ”نیاجال لائے پرانے شکاری“ نام نہاد معاہدہ ابراہیمی کے عنوان سے مسلم ممالک اور باالخصوص مسلم امہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں
57 اسلامی ممالک میں سے ایک ملک کے علاوہ اکثر ممالک کے اکثر قوانین اسلام کے خلاف ہیں ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے پیش کردہ بلوں کی اسلامی شقوں کو اسمبلی میں پیش ہی نہیں ہونے دیا جاتا
امام ان سب کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جو اپنے والدین کی نسبت زیادہ مہربان ہیں اور ان کے حالات امام ( عج ) کے لیے بہت اہم ہیں اور وہ ایسے لوگوں کے لیے دعا گو ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ امام (عج) پر بھروسہ کریں اور ان کے مسائل حل کریں۔
انسانیت کا فطری تقاضا ہے کہ جب بھی انہیں مشکلات گھیرے میں لیتی ہیں ، ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی ہے ، انسانی معاشروں میں نا انصافی، بے عدلی، تشدد اور برائیوں کا رواج ہوتا ہے تو وہ ایک مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں کہ جو انہیں مشکلات سے نکالے۔
مرجع عالی قدر نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی سیرت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ خداوند متعال نے رسول اللہ ؐ کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو دین اور اسلام کا مرکز قرار دیا ہے
آیت اللہ العظمی سیستانی نے آیت اللہ علوی گرگانی کے سانحہ ارتحال پر اپنا تعزیتی پیغام جاری کیا اور مرحوم کے اہل خانہ کی خدمت میں تسلیت پیش کیا۔
آخرت میں حافظ کو کہا جائیگا ایک آیت پڑھ ایک درجہ ملے گا جتنی آیات پڑیگا اتنے درجات بلند ہونگے آپ جانتے ہیں قرآن کی ہزاروں آیات ہیں ۔حافظ قرآن خصوصی شفاعت جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کا مستحق ہے اس لیے کے جنکے بابا نے قرآن کے لیے اتنی مصیبتیں برداشت کی وہ قرآن حفظ کرنے والے کے سینے میں محفوظ ہے