مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
عالم ربانی آيۃ اللہ آقا الحاج سید محمد علی علوی گرگانی رضوان اللہ کی وفات پر میں قم کے حوزۂ علمیہ (اعلی دینی تعلیمی مرکز)، مرحوم کے تمام شاگردوں، عقیدت مندوں اور مقلدین بالخصوص گلستان کے مومن عوام جو مرحوم اور ان کے والد محترم مرحوم آیۃ اللہ الحاج سید سجاد علوی سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے
انہوں نے کہاکہ آیت اللہ گرگانی نے ہزاروں شاگرد پروان چڑھائے جو آج دنیا بھرمیں مکتب اہل بیت ؑ کی ترویج وتشہیر میں شب وروز مصروف عمل ہیں،مکتب محمد وآل محمدؑ کیلئے ان کی علمی وعملی خدمات کو تاابد یاد رکھا جائے گا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے ایک پیغام میں بزرگ مرجع تقلید حضرت ایت اللہ العظمیٰ محمد علی علوی گرگانی کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے زیر اہتمام عظیم الشان تحلیلی نشست "وطن عزیزپاکستان کی تازہ ترین حالات کا جائزہ"سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ امت واحدہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین علامہ امین شہیدی سعودی عرب، یمن، شام، عراق، نائیجیریا، پاکستان کے چپے چپے میں ہونے والے ظلم و ستم پر صدای احتجاج بلند کرنا ہمارا اخلاقی، دینی اور انسانی فریضہ ہے۔
ایرانی شہر قم کے گورنر سيدمحمدتقی شاہچراغی نے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی علوی گرگانی کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کل قم میں سوگ کا اعلان کردیا ہے۔
حضرت آیت اللہ علوی نے ایرانی سال 1318 کے خرداد کے مہینے (20 جمادی الثانی 1359ھجری) میں نجف اشرف میں آنکھ کھولی۔ آپ کی پیدائش سے آپ کے والد گرامی بہت مسرور ہوئے کیونکہ اس وقت تک کئی بیٹے پیدا ہوئے تھے لیکن سب بچپن میں ہی دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور آپ نے امام علی(ع) کی روضہ اقدس میں توسل کرکےامامؑ سے ایک عالم اور نیک اولاد کی درخواست کی تھی۔
بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی علوی گرگانی کچھ ہی دیر پہلے انتقال فرما گئے.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے آل سعود کی بادشاہت کے ہاتھوں 81 قتل ہونے والوں میں 41 شیعہ مسلمانوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وحی ا ور رحمت کی سرزمین پر ایک دن میں درجنوں بے گناہوں کے سر قلم کرنا سفاکیت ہے۔
آج خود اقوام متحدہ نہ صرف بے بس بلکہ سیکرٹری جنرل کے اعترافات کے مطابق بے اختیار نظر آتا ہے مگر کیوں نہ ہو کہ !جس ادارے نے مختلف اداروں میں استعماریت کی اجارہ داری کو جس بھی انداز میں ہو قبول کیا ، ویٹو جیسا عالمی ہتھیار چند عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں دیدیا ہو ،