رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
توحید کے بعد پہلا حکم نماز کا دیا گیا۔ نماز اللہ کا ذکر ہے، نماز کا مطلب ہر روز اللہ کو سلام کرنا ہے، نماز کا مطلب اللہ کی بندگی کرنا ہے۔ پورا قرآن مجید سورہ فاتحہ میں ہے، ہمیں اس میں درس دیا جا رہا ہے جو کام کرو اللہ کے نام پر کرو
اس سانحے پر پورے ملک سے جو ردعمل آیا، تمام مذاہب اور مسالک کے علمائے کرام اور عوام کی طرف سے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں، اس اتحاد کے ذریعے ہی دہشتگردی کو شکست دیں گے۔
22 مارچ کو وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی مجلس اعلی اور مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا
رہبر انقلاب اسلامی نے پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکا یا کسی بھی دوسری طاقت کے سامنے جھکنے کو ایک بڑی غلطی اور سیاسی طاقت پر چوٹ بتایا اور کہا کہ اس سے زیادہ سادہ لوحانہ اور احمقانہ تجویز کوئي نہیں ہے کہ کوئي یہ ہے کہ ہم دشمن کو اشتعال دلانے سے بچنے کے لیے اپنی دفاعی طاقت کو کم کر دیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا غلام باقر گھلو ، مولانا سید حسن رضا نقوی مولانا منور عباس قمی مولانا قیصر عباس قمی بھی ہمراہ تھے.
عالمی سیمینار "گام دوم انقلاب اسلامی" کے پاکستانی سیکرٹری حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے قم میں صحافیوں سے گفتگو میں انقلاب اسلامی ایران کے عالمی سطح پر اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ عالمی سامراج انقلاب اسلامی سے ڈرتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ایران کو دیگر ممالک سے الگ کر دے۔
سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے شہداء کی تجلیل کے لئے مجتہدین اور علماء کا عظیم اجتماع آج 9 مارچ بروز منگل نماز مغرب و عشاء کے فورا بعد مسجد اعظم قم میں منعقد ہوگا۔
ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی متحرک اور فعال سماجی و روشن فکر شخصیت کی شہادت اسی جدوجہد کا تسلسل تھی جو ہمیشہ ملی پلیٹ فارم سے وابستہ و مربوط رہے ، ان کی قومی و ملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی
لبنانی شیعہ اسلامی اسمبلی کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ملزمان اور محرکین کی شناخت کیلئے اپنے پوری کوشش بروئے کار لائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اہم تدابیر اختیار کرے۔