مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
اس عالم ربانی کی مجاہدت کے علمی، اخلاقی، انقلابی، سیاسی اور ادارہ جاتی میدانوں کے تنوع نے، جن میں انھوں نے پورے اخلاص و تندہی سے کام کیا، انھیں ایک کم نظیر شخصیت میں بدل دیا تھا۔
عالم ربانی کی رحلت پر حضرت بقیۃ اللہ امام زمان (عج)، مراجع عظام، علماء کرام، شاگردان اور پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
مرحوم جيد عالم دین اور اسلامی انقلاب کے سرگرم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے،میزان الحکمہ جیسی درجنوں کتابوں کے مولف تھے۔ آیتالله محمدی رے شہری نمائندہ ولی فقیہ اور مجلس خبرگان کے رکن بھی رہے ہیں
کل 23 مارچ کو جامعتہ المنتظر کے 68 ویں سالانہ جلسے کی تقریبات منعقدہوں گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رئیس الوفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے مدارس کی مدیران کی طالبات کی تعلیم کیلئے خدمات کو سراہا اور زور دیا کہ دیگر علوم سے زیادہ قرآن و حدیث کی تعلیم پر توجہ دی جائے۔
آخری نجات دہندہ کا تصور کم وبیش تمام ادیان عالم میں پایا جاتا ہے لیکن یہ مکتب اہلبیت علیهم السلام کا طرہ امتیاز ہے کہ اس میں تصور کے ساتھ حقیقی معنوں میں منجی بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاست دان اپنا نکتہ نظر ضرور پیش کریں مگر اسے اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے بیان کریں، صحت مند، مہذب معاشرے کے قیام میں اخلاقی پہلو ہی بنیاد ہے اگر بنیاد درست نہ ہو تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے،
سنہ 1400 میں ہم نے پیداوار، حمایت اور رکاوٹوں کے ازالے کا نعرہ دیا تھا۔ بڑی حد تک اچھے کام انجام پائے جو اب بھی جاری ہیں اور انھیں آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ ان کچھ برسوں میں حقیر نے سال کے نعرے کے لیے کسی ایک شرط اور صفت کے ساتھ زیادہ تر 'پیداوار' پر زور دیا ہے۔
پاکستان تمام مکاتب فکر کے اکابرین نے بنایا ،قائد اعظم اور علامہ اقبال کے وطن میںمخصوص مسلکی سوچ کو مسلط نہیں ہونے دیں گ