مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
دعا جیسی نعمت سے تمام نعمتیں مل سکتی ہیں،جسمانی عبادات کے علاوہ مالی واجبات کی ادائیگی بھی لازم ہے
ضرورت مند قیدیوں کی رہائي میں مدد کے لیے منائے جانے والے دیت سینٹر کے پینتیسویں 'گلریزان فیسٹول' کے انعقاد کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے اس کار خیر میں ایک ارب تومان (تقریبا چالیس ہزار ڈالر) کی مدد کی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ ماہ ِمبارک رمضان میں اللہ ہمارا میزبان ہے، ہم اُس کے مہمان ہیں۔میزبان اپنے مہمان کے آرام و سکون کا خیال رکھتا ہے۔مہمان کو بھی میزبان کا خیال اور آداب کا پاس کرنا چاہئے۔ ایسا کام نہ کرنا چاہئے جسے میزبان ناپسند کرے۔صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اپنے مُنعِم ، مہربان خُدا کی اطاعت ضروری ہے۔
شہیدہ بنت الہدی اور ان جیسی دیگر عظیم شخصیات کو بطور آئیڈیل پیش کرنے سے قبل ان کی روش کی ترویج کرنی ہوگی۔ جامعۃ الزہرا کراچی کی پرنسپل خواہر طاہرہ فاضلی سے شہیدہ بنت الہدیٰ کے افکار وخدمات پر خصوصی گفتگو
درسی کتب میں حلقات کو علم اصول نظری وعملی میں کتنا اہم مقام حاصل ہے۔جدیداسلوب اور بہترین عبارت میں پیش کیا ہے۔ جس کی وجہ سابقہ قدیمی کتب جیسے معالم وغیرہ سے ہم بے نیاز ہوگیے ہیں۔ آپ کے فقہی نظریات بھی انتہائی اہم ہیں جن کوآیت اللہ سید محمود شاہرودی نے بحوث فی شرح عروۃ الوثقی کے نام سے تقریرات پیش کی ہے۔یہ تفصیلی کتاب ہے۔
آیت اللہ حافظ بشیر نجفی نے تاکید کرتے ہوئے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے زیارت کے بعد ہمارے کردار میں مثبت تبدیلی پیدا ہو تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہماری زیارت قبول ہو گئی ہے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے نجف اشرف میں مراجع عظام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی و حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاض سے ملاقات کی اور حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید سعید الحکیمؒ کے دفتر میں مرحوم کی روح و پُرفتوح کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس تاریخی فیصلہ سے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو فروغ حاصل ہوگا اور ملکی نظام دوبارہ پٹڑی پر آسکے گا۔
ماتحت عدالتوں کے لیے یہ فیصلہ مشعل راہ ہے وہ بھی زیر التوا کیسوں میں آئینی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فیصلے صادر کریں