دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
کربلائے معلیٰ کے برجستہ عالم دین آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے اپنے ہفتہ وار لیکچر میں فلسطینی عوام کی تحریک اور قیام کے بارے میں کہا کہ قابض و غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کے قیام نے ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ آج بھی اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہدو پیمان کی پابند ہے اور ہر روز دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں بیدار ہونے والے انقلابی جذبے سے اس اسلامی تہذیب کی نوید ملتی ہے جس کا شدت سے انتظار ہے۔
عراق، فلسطینیوں کی حمایت میں بغداد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد کی شرکت-
کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک غاصب، انتہاپسند اور دہشت گردریاست ہے،جسے عالمی سامراج نے دھونس دھاندلی ، پیسے اور اسلحے کے زور پر فلسطینی سرزمین پر مسلط کر رکھا ہے۔اس ناکام اور غیر فطری ریاست کا زوال نوشتہ دیوار ہے، اس کا خاتمہ دیر یا بدیرناگزیر ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور وفاق ٹائمز کی پوری ٹیم کی جانب سے جناب صدرایی عارف کی خدمت میں تعزیت
امریکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں رکاوٹ بنا ہوا ہے تاکہ اسرائیل زمین و آسمان سے فلسطینیوں پر آگ برسا سکے۔ اسرائیل نے زمینی حملے کی بھی دھمکی دی ہے، ایسے میں بیدار انسانی ضمیر خاموش نہیں رہ سکتا۔ قبلہ اول کی حفاظت اور آزادی ، عالم اسلام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ انسان کے اندر اچھی صفات زیادہ ہوں تو وہ رحمان کا نمائندہ اور شیطان کی صفات زیادہ ہوں تو شیطان کا نمائندہ۔ اچھائیوں، نیکیوں سے اپنے اندر سے شیطان کو نکالا جا سکتا ہے۔شیطان، انسان کو آخری سانس تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ او آئی سی امت مسلمہ کا متفقہ پلیٹ فارم ہے، اسے صرف رسمی اجلاس کی بجائے عملی اقدام اٹھانا ہوگا، او آئی سی حقیقی معنوں میں نمائندگی کا حق ادا کرے کیوں کہ یہ وقت اسی بات کا متقاضی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین ہے، جہاں آگ لگی ہوئی ہے، فلسطینیوں نے ایسے حالات میں روزے رکھے ہیں کہ انہیں مسجد نہیں جانے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے مردوں کی طرح یہودی فوجیوں کا مقابلہ کیا۔
نماز کے بعد ملکی سلامتی و فلسطین و مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور مسلم ممالک میں جاری فتنہ و فساد کے خاتمے کے لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی گئی۔