دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
علامہ محمد حسین اکبر نے وفاقی و کے پی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر حالات کنٹرول سے باہر ہوئے تو حکمرانوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کے تمام شیعہ سنی ایک پیج پر ہیں اور سب کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ راستے کھولے جائیں اور سفر محفوظ بنایا جائے
علامہ محمد رمضان توقیر نے جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اورمظلومین پارہ چنار کے جاری دھرنے کی حمایت کرتےہیں۔ ہمارااحتجاج مظلومین پارہ چنار سے اظہار یکجہتی اور بے بس و بے حس حکومت کے خلاف ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقہ اور شہریوں کو تکلیف دینا نہیں ہے۔
رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہراء(س) کے یوم ولادت با سعادت کی ممناسبت سے حرم امام رضا علیہ السلام میں اردو زبان خواتین کے لئے ’’بانوی مہر‘‘(مہربان خاتون) کے عنوان سے خصوصی جشن کا انعقاد کیا گیا۔
امام جمعہ تہران نے امریکہ کو تمام بغاوتوں اور جنگوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کی موجودہ صورت حال ایک گہری سازش کا نتیجہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی رہنما نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے جرگے، آل پارٹیز کانفرنسز اور ان میں ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کرانے میں حکومت ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
کانفرنس میں نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کی بزرگ علمی شخصیات، مختلف ممالک جیسے پاکستان، آذربائیجان، سعودی عرب، لبنان، افریقہ، افغانستان، انڈیا، اور ترکی کے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت
انجمن امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام نماز جمعہ کے بعد مرکزی احتجاجی ریلی مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو سے یادگار شہداء تک نکالی جائے گی۔ علماء، اکابرین، سرکردہ گان، نوجوانان اور جوانان بلتستان شرعی زمہ داری سمجھتے ہوئے شرکت کریں اور بلتستان میں ایک منظم احتجاج ریکارڈ کرا کر ایک نئی تاریخ رقم کریں۔
انہوں نے حجۃالاسلام مولانا سید علی رضا رضوی سے ملاقات کے دوران کہا: اگر انسان اپنی ابدی حقیقت کو سمجھ لے، تو وہ ایسے اعمال انجام دے گا جو ہمیشہ کے لیے فائدہ مند ہوں، دنیا کی اصلاح قتل و غارت کے ذریعے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ممکن ہے، عدل، عقل اور اصلاح ہی دنیا کے نظام کو چلا سکتے ہیں، ظلم، وہم اور اسلحہ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ممالک کو عسکری طاقت سے فتح کیا جاتا تھا، تاکہ ان ممالک کے وسائل کو لوٹ سکیں۔ استعمار تجارتی اور اقتصادی ذرائع کے ساتھ ممالک میں داخل ہوتے تھے اور پھر ہتھیاروں اور فوجی قوتوں کی مدد سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے تھے۔