مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا: آیت اللہ حاج آقا مجتبی تہراتی (رح) نے علمی مدارج اور روحانی مقامات کو سماجی جذبے، خدمت خلق اور انقلابی نگاہ کے ساتھ مربوط کر رکھا تھا۔
اس قرآنی اجتماع کا انعقاد، حرم امام رضا علیہ السّلام کے ادارۂ برائے غیر ملکی زائرین کے شعبۂ برصغیر پاک و ہند کے زیرِ انتظام کیا گیا اور یہ پروگرام قرآنی تقریب’’فی رحاب القرآن‘‘ کے تسلسل میں منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد اردو زبان خواتین اور مرد حضرات نے شرکت کی۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیرحسین نجفی نے اپنے دستِ مبارک سے بعض طلاب حوزہ علمیہ نجف اشرف کو لباسِ علم و تقوی عمامہ سے مزین کیا ۔
علامہ محمد حسین اکبر نے وفاقی و کے پی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر حالات کنٹرول سے باہر ہوئے تو حکمرانوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کے تمام شیعہ سنی ایک پیج پر ہیں اور سب کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ راستے کھولے جائیں اور سفر محفوظ بنایا جائے
علامہ محمد رمضان توقیر نے جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اورمظلومین پارہ چنار کے جاری دھرنے کی حمایت کرتےہیں۔ ہمارااحتجاج مظلومین پارہ چنار سے اظہار یکجہتی اور بے بس و بے حس حکومت کے خلاف ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقہ اور شہریوں کو تکلیف دینا نہیں ہے۔
رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہراء(س) کے یوم ولادت با سعادت کی ممناسبت سے حرم امام رضا علیہ السلام میں اردو زبان خواتین کے لئے ’’بانوی مہر‘‘(مہربان خاتون) کے عنوان سے خصوصی جشن کا انعقاد کیا گیا۔
امام جمعہ تہران نے امریکہ کو تمام بغاوتوں اور جنگوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کی موجودہ صورت حال ایک گہری سازش کا نتیجہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی رہنما نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے جرگے، آل پارٹیز کانفرنسز اور ان میں ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کرانے میں حکومت ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
کانفرنس میں نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کی بزرگ علمی شخصیات، مختلف ممالک جیسے پاکستان، آذربائیجان، سعودی عرب، لبنان، افریقہ، افغانستان، انڈیا، اور ترکی کے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت