دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
لبنانی اخبار "الاخبار" کی رپورٹ کے مطابق بعض حلقوں نے آیت اللہ سید علی سیستانی سے درخواست کی ہے کہ وہ الحشد الشعبی عراق کے انحلال کے لیے فتویٰ جاری کریں لیکن نجف اشرف کے اس شیعہ مرجع تقلید نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جعفریہ الائنس نے کہا کہ اگر کرم کا راستہ انسانی بنیادوں پر فوری کھولنے اور کم ازکم ادویات، غذائی اجناس اور ایندھن کی ترسیل یقینی نہیں بنایا گیا تو ملت جعفریہ دنیا بھر میں احتجاج کے ساتھ انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگی۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو داخلی طور پر مضبوط’ مستحکم اور خوشحال بنانے کے لئے لازم ہے کہ توازن کی ظالمانہ پالیسی کی بجائے حکمران اچھے اور بروں کی تمیز کو یقینی بنائیں تاکہ معاشرے سے بگاڑ’ انتشار اور انارکی کا خاتمہ ہوسکے۔
اس بین الاقوامی ویبینار میں ایران سے محترمہ لطیفه دوجی اور مولوی اسحاق مدنی ، لبنان سے محترمہ رباب جوهری، عراق سے محترمہ ساجده الحائری اور انفال الحلو، پاکستان سے محمد رضا ثاقب مصطفایی، افغانستان سے مریم سیرت شیخ زاده، نائجیریا سے فاطمه ثانی،گفتگو کریں گے۔
آیت اللہ اعرافی نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کا مستقبل آپ نوجوان طلبہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے لیے آپ کو علم، تقویٰ، حوزوی اصالت اور معنوی تربیت کے راستے پر گامزن رہنا ہو گا۔
آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی کو ان کی انگشت خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک با وقار اور عظیم الشان پروگرام جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں 29 دسمبر 2024 کو منعقد کیا رہا ہے۔
رہبر انقلاب نے حماس اور حزب اللہ کو جڑ سے ختم کر دینے کے صیہونی حکومت کے کسی بھی ہدف کے پورا نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی باشرف اقوام اللہ کے فضل سے منحوس صیہونی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ دیں گی اور علاقے کا مستقبل بہتر بنائيں گي۔
انہوں نے حوزہ علمیہ کی فکری اور ثقافتی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارس صرف مطالبات پیش کرنے والے نہیں بلکہ ان کے جوابات دینے والے بھی ہیں، آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اگر مدارس، دین اور ثقافت کے معمار اور رہنما نہیں ہوں گے تو وہ اپنے حقیقی منصب و مقام سے محروم ہو جائیں گے۔
خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندانی، ذاتی معاملات سے لے کر اجتماعی معاملات تک ہر موقع پر جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت و کردار کو مدنظر رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی گود سے نیک سیرت نسلیں معاشرے کو فراہم کریں۔