صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اکثر علاقوں میں ظالم و مظلوم ، قاتل و مقتول اور جابر و مجبور کی تمیز کیے بغیر مکتب تشیع کے محب وطن اور قانون پسند شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر توہین آمیز رویہ ایک مہذب قوم کی اہانت و تذلیل ہے جو قابل مذمت ہے
شب عاشور کو تہران کے حسینیہ امام خمینی میں مجلس عزائے سید الشہداء کا انعقاد ہوا جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شرکت کی۔
پیغام عاشورہ میں حافظ ریاض نجفی نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام نے قربانی دے کر اپنے عظیم نانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوربابا حضرت علیؑ کی تبلیغات کی حفاظت کی ۔
برائیوں اور مفاسد کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیرعادلانہ نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ؑ کے فرامین‘ کردار‘ سیرت‘ انداز عمل اور جدوجہد سے استفادہ کریں۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مذکورہ آیاتِ قرآنی کو شیعہ سنی احادیث کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ صحاحِ ستہ کی کتب میں امام مہدی آخر الزمان عجل اللہ فرج کے حوالہ سے چند مشترک باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ کہ ان کا نام "مہدی" ہے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی نسل سے ہیں، ان کا نمبر بارہواں ہے، وہ علی و فاطمہ علیہم السلام کے فرزند ہیں، رسول کریمؐ کے جانشین بنی اسرائیل کے خلفاء کی طرح بارہ ہوں گے وغیرہ۔
شب تاسوعا یا نویں محرم کی شب، حسینیۂ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ میں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا منعقد ہوئي جس میں رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شرکت کی۔
انہوں نے اہل بیتؑ کی محور و مرکزیت اور ان کی حیثیت کے بیان کرنے کو بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلِ منبر کو چاہیے کہ اہل بیتؑ کے مقام و مرتبہ کو بار بار بیان کریں۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا عزاداری ہمارا آئینی اور شہری حق ہے، جسے استعمال کریں گے اور صدیوں سے کرتے آرہے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ شرپسندوں کو لگام ڈالیں۔
صدر عارف علوی نے لکھا کہ جب سے آپ پاکستانی عوام نے مجھے یہ عہدہ امانتاً دیا ہے، میں نے سینکڑوں شہدا کے خاندانوں سے رابطے کیے ہیں، جنازوں میں شرکت کی ہے اور تعزیت کے لیے ان سے ملاقات کی ہے، آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں یہ کام اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔