مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























مولانا مرحوم دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کے حوالے سے علمی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
صدر عارف علوی نے لکھا کہ جب سے آپ پاکستانی عوام نے مجھے یہ عہدہ امانتاً دیا ہے، میں نے سینکڑوں شہدا کے خاندانوں سے رابطے کیے ہیں، جنازوں میں شرکت کی ہے اور تعزیت کے لیے ان سے ملاقات کی ہے، آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں یہ کام اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔
حرم مطہر رضوی کے اردو زبان خطیب حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر فاضل علی فاضل صاحب نے ’’معرفت امام ‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمایا، مجلس کے اختتام پر ماتم داری بھی ہوئی اورزائرین کو حرم امام علی رضا علیہ السلام کے متبرک دسترخوان پر غذا تناول کرنے کے لئے دعوت نامہ بھی دیا گیا۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر وحشیانہ بمباری سے فلسطینی کمانڈر اور 5 سال کی بچی سمیت 10 فلسطینی شہید اور 75 زخمی ہو گئے۔
حجت الاسلام و المسلمین مسعود عالی نے مجلس پڑھی اور اپنے خطاب میں اس نکتے کو بیان کیا کہ دینداری کا اصلی معیار اور پیمانہ یہ ہے کہ انسان محاذ حق کا حصہ بنے اور امام کی منزلت و ذمہ داری کی معرفت رکھتا ہوں۔
ماتمی انجمنیں، ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی روشنی کی ایک جھلک ہمارے عوام کے لیے ماتمی انجمنوں کا موضوع ایک عام اور روزمرہ کا معاملہ ہے اور لوگوں کے دل اور ان کی آنکھیں ان سے مانوس ہیں لیکن اگر کوئي زیادہ باریکی اور حقیقت بیں نظروں سے دیکھے تو یہ ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی ضوفشانی کا ایک مظہر اور اس عظیم الہی تحریک کی مسلسل جاری برکتوں اور ثمرات میں سے ایک ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام تر کمالات کا مجموعہ رسول اکرم ہیں اور امام علی سے امام زمان تک تمام آئمہ اہلبیت رسول اکرم کی تعلیمات کی تصویر ہیں اور حضورِ سرور کائنات کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں امام حسین کی یاد اہتمام پروردگار ہے
انہوں نے مزید کہا کہ انسان دنیا کے بندے (غلام) ہیں اور دنیا کے بارے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اْس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے؛ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھنیچا چلا جاتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کو خدا کی جانب سے تین عظمتیں ملی ہیں پہلی یہ کہ آپ کے گنبد کے نیچے دعا قبول ہوتی ہے ، دوسری آپ کی تربت خاکِ شِفا ہے اور تیسری آپ کی اولاد میں سے نو افراد کو خدا نے امامت کے لئے چنا
ڈیرہ سٹی حسینی چوک پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے پانچویں محرم الحرام کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا شہادتوں کا عظیم مشن کربلا سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔شہادتیں ہی عزاداری کی بقا ہیں۔