مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























مولانا مرحوم دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کے حوالے سے علمی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے دنیا پر دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ ناجائز اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن افسوس حقوق بشریت کےلئے صدائے احتجاج بلند کرنیوالوں اور آسمان سرپر اٹھانے والوں کی زبانیں معلوم نہیں کیوں بھارت کےخلاف گنگ ہیں۔
علامہ سید علی رضا رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام کی بنیاد عقل و منطق پر استوار ہے اور اس کے پیش کردہ تمام نظریات کا تعلق معقولات سے ہے کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کے تجربات ، تجزیات ، سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اسکا مصدر و منبہ وحی الہٰی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا ذکر کربلا کیا جائے گا یاد حسین کا انعقاد ہوگا اتنا زیادہ وحدانیت پروردگار کا اثبات ہوگا اور اس ذات کی عبادت کا طریقہ و سلیقہ ہمیں آئے گا مجلس عزاء کے دروازے ہر آنے والے کے لئے کھلے ہیں یہ امام حسین کا فرش انسانیت کے لئے درسگاہ ہے اہلسنت تو ہماری جان ہیں اس فرش عزا کے دروازے غیر مسلموں پر بھی بند نہیں کیے جاسکتے
انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں دو گروہ موجود ہیں؛ ایک وہ جو امامؑ کو نہیں مانتے لیکن ایک گروہ وہ ہے جو امامؑ کو تو مانتے ہیں، لیکن امامؑ کے نظریے کو قبول نہیں کرتے. دوسرے گروہ کی تشخیص کے لئے چشم بصیرت کی ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلین سید شفقت علی نقوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام زمان عج صرف شیعوں کا امام نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کے امام ہیں۔ تمام مخلوقات کیلئے امام کی اطاعت واجب ہے۔
کعبہ شریف کے اردگرد سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ رکاوٹیں ڈھائی سال قبل کورونا وبا کے باعث لگائی گئی تھیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کے سلسلے میں جاری پاک آرمی کے آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کے حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے آخری رسول جب مبعوث برسالت ہوئے تو انہوں نے عالمِ بشریت کو ایک ایسا فلاحی نظام دیا جس کا تعلق جسم کی فلاح اور روح کی سعادت سے ہے اور یہ نظام دنیوی زندگی کی سرفرازی کے ساتھ اخروی زندگی کی سربلندی کا ضامن بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنی امیہ نے بہت ساری احادیث اپنی حمایت میں جعل کیئے اور احادیث کو اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جیسا کہ معروف ہے کہ "حکومت کے خلاف اٹھنا یعنی دین کے خلاف اٹھنا" اور دین کے خلاف بات کرنے سے انسان واقعا ڈر جاتے ہیں اور مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی امیہ نے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے حکومت کی۔