مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























مولانا مرحوم دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کے حوالے سے علمی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مختلف شخصیات و وفو د سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محرم الحرام میں پیغام حسینی ؑ کو عام کریں ، اتحاد و حدت کی فضا کو برقرار رکھیں او ر کسی کو معاشرے میں تقسیم یا تفریق پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں پاکستان میں باہمی احترام ،بھائی چارے اور تمام مذاہب و مکاتب کے مقدسات کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عزاداری سید شہداءمنائیں اور امام عالی مقام کے فرامین و سیرت ،فضائل و مصائب اور اسلام کے آفاقی پیغام کو احسن انداز میں عوام الناس تک پہنچائیں ۔
عالمی یوم حضرت علی اصغر (ع) کے موقع پر ہونے والی عزاداری اپنی نوعیت کی ایک منفرد عزاداری ہے، جو 20 سال سے عالمی سطح پر ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں برپا ہوتی ہے۔
حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کے کلام میں دنیا پرستی کو بار بار حرام قرار دیا گیا ہے اور انسان کو دنیاوی امور میں مشغول نہیں ہونا چاہئے اور اس کا مطلب سستی اور کاہلی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دنیا کا اسیر نہ کر لے۔
حسینیۂ امام خمینی میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی پہلی شب کی مجلس برپا ہوئی جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای شریک ہوئے۔
۔قائد شہیدکی 34 ویں برسی کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف الحسینی کی شخصیت انتہاپسندی‘ شدت پسندی اور جنونیت جیسے سنگین مسائل کے خلاف توانا آواز تھی ۔ اُن مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا کیونکہ حکمت و اتحاد امت قرآنی و نبوی فریضہ ہے جس پرہم مسلسل عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہاسیلاب متاثرین کے ریلیف کے سلسلے میں فوجی افسروں اور جوانوں کا کام قابل تعریف ہے ۔جنہوں نے موجودہ سیلاب کے باعث مشکلات میں گھری عوام کا احساس کرکے انہیں ریلیف فراہم کرنے کے دوران شہادت کا رتبہ پاکر فوج کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
علامہ امین شہیدی نے قرآن کو کتابِ ہدایت و انسان سازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کو گمراہی سے نکال کر بلندی اور عظمت کے اعلی ترین مقام پر پہنچانے والی کتاب ہے۔
علامہ سید علی رضا رضوی نے اپنے موضوع دین حکمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کی آمد کا مقصد انسان کو طرح کے عیب سے صاف کرنا ہے اور اسکی سوچ ، فکر ، کردار کو جہالت ، جمود ، قدامت پسندی جیسے مضر امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے عقیدہ امامت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولا علی علیہ السلام باب مدینتہ العلم ہیں جو بھی تحصیل علم کا طالب ہے اسے اسی دروازے پر آنا پڑے گا۔