صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نےکہا کہ توہین رسالت(ص) سے متعلق روسی صدر کا بیان خوش آئند ہے۔
اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یورپ کے اتحاد کیوجہ دنیاوی مفادات اور معیشت ہے۔
پوری تاریخ میں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے میں انبیاء علیہم السلام کا کردار ناقابل تردید رہا ہے۔ انبیاء میں سے ہر ایک نے ان تعالیم اور بہت سی دوسری تعلیمات کی مدد سے انسانی معاشرے کے ایک بڑے حصے میں اتحاد و وحدت کو ایجاد کیا ہے۔
وینزویلا کے صدر نے کہا ہے کہ ہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی حکمت اور قیادت سے بہت متاثر ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان سے دوبارہ تہران میں ملاقات کریں گے۔
کورونا ویکسین کی تیسری خوراک لینے کے بعد آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے کہاکہ لوگوں کو اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ جسم کی صحت کو برقراررکھنا نماز جیسے فرائض میں سے ایک ہے۔
کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے شعبہ خواتین و خاندانی امور اورآستان قدس رضوی کے جامع مشاورتی سینٹر کے تعاون سے نئے شادی شدہ جوڑوں کے لئے خصوصی مشاورتی کلینک کا ا فتتاح کردیا گيا ہے
کتاب میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی حالت زندگی،عہدے اور مختلف شخصیات کے ان کے بارے میں تاثرات سمیت پاکستانی اور ایرانی مدارس میں علمی و ثقافتی اور دینی خدمات اور سرگرمیاں شامل ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ روسی صدر کا بیان نہ صرف خوش آئند بلکہ انہوں نے دنیا کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرائی ہے کیونکہ ہر کچھ عرصہ بعد آزادی اظہار کے نام پر توہین و اہانت کی جاتی ہے آزادی اظہار اور اہانت میں فرق، تمیز کرنا لازم ہے، آزادی اظہار کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ مقدس ہستیوں کی توہین کی جائے۔
سید حسن نقوی:پاکستان سے ہم نے تقریباً 20 طلاب کو داخلہ دیا اور تقریباً 1393 شمسی میں باقاعدہ افتتاح ہوا اور یہاں کلاسس شروع ہوئیں۔ہر سال ہم تقریباً 20 ، 25 طلاب کو پاکستان سے باقاعدہ طور پر امتحان لے کر داخلہ دیتے ہیں اور یہاں سے ابھی تک تقریباً 35، 40 طلاب فارغ التحصیل ہوئے ہیں چونکہ کارشناسی کے بعد یہاں ارشد کا کوئی سسٹم موجود نہ تھا لذا طلاب دوسرے مدارس میں ارشد کیلئے چلے جاتے ہیں اور اس طرح ہر سال تقریباً 10 سے 15 طلاب ایم فل کے انٹری امتحانات میں شرکت کرتے ہیں اور بہترین انداز میں یہاں سے کامیاب ہوکر فارغ ہوجاتے تھے اور ابھی ہمیں ایم فل کی کلاسز شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔