صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
پاکستانی وفود کی مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ملاقات
علامہ شیخ شفا نجفی نے جامع مسجد امام صادق علیہ السلام اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ دین کے مسائل میں سے ضروری اور اہم ترین مسئلہ، توحید کا مسئلہ ہے اور اصول دین کی پہلی اصل توحید ہے، لہذا اگر انسان توحید کی پہچان اور معرفت اچھے طریقہ سے حاصل کرلے تو باقی اصول کو سمجھنا اور ان کا معتقد ہونا آسان ہوگا
ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ان کی رہائشگاہ پر دھاوا بولا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس سے قبل علامہ فضل عباس مریدکے میں تھے، وہاں بھی ان کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے شامل تفتیش کیا تھا تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دینی مدارس کا قیام علامہ صفدر حسین نجفی کا کارنامہ ہے جبکہ قوم کو سنے سنائے دین کی بجائے فکری و نظریاتی دین کی طرف بھی انہوں نے ہی راغب کیا اور پاکستان میں کتاب بینی کو فروغ دیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیالکوٹ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے غیر انسانی واقعات پر بیانات کے ساتھ عوامل کا جائزہ لے کر مستقل حل بھی نکالا جائے
ہر وہ شخص جومذہبی علوم سے واقف ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ تمام علوم دینی کی برگشت اور ان کا جو ہر تین چیزیں ہیں ۔(۱) عقائد (۲) اعمال (۳) اخلاقیات کوئی شخص کما حقہ دیندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان تین امورکو بقدر ضرورت نہ سمجھےاور ان کا علم حاصل کرنے کے بعد ان پر عمل نہ کرے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اور نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کا واقعہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کے لئے باعث شرم ہے ۔
اگرچہ تبلیغ دین کے ذرائع میں تألیف و تصنیف بھی ایک عمدہ ذریعہ ہے لیکن اس مادی دور میں جب لوگ دین کی طرف خاص رجحان نہیں رکھتے وہ مذہبی کتب کے پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور پھر سب لوگ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے ۔ لہٰذا جتنی افادیت مجالس و محافل سے ہوسکتی ہے وہ کتب و رسائل سے ممکن نہیں۔
عالمہ سیدہ توقیر فاطمہ نقوی نے وفاق ٹائمز سے گفتگو میں کہاکہ محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی طلاب کی مشکلات کو حل کرنےکی کوشش کرتے تھے اور اس کے علاوہ بھی دیگر فیملیز اور دیگر مستحقین کی حتی المقدور مالی معاونت اس انداز میں کرتے تھے کہ حتی فیلمی کو بھی معلوم نہیں ہوتا تھا۔ کئی افراد کی شادیاں کروائیں اور کئی بچیوں کو اپنے گھر سے مختصر سامان دے کر ان کو رخصت کیا اور اسی طرح سے آپ کی رحلت کے بعد بہت سارے لوگوں نے آکر بتایا کہ ہماری ماہانہ بنیاد پر مدد کرتے تھے اور آج ہم ایسے محسوس کرتے ہے کہ جیسے ہمارے سر سے سایہ اٹھ گیا ہے۔