صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
جامعہ الحسین الشہید علیہ السلام لقمان خیرپور میں اس سال جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی عمامہ گذاری تقریب منعقد ہوئی۔
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ سے ملاقات کی جس میں فلسطینی مزاحمت اور صہیونی حکومت کے مابین حالیہ جنگ جس کو "سیف القدس" کے نام سے جانا جاتا ہے اور حتمی فتح کے لئے فلسطینی مزاحمت کو بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
رہبر معظم کی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کا انعقاد اور جناب عالی کا حسن انتخاب پوری دنیا میں امت مسلمہ کے لئے مسرت و شادمانی کا باعث بنا۔ اس موقع پر اپنی اور پاکستان کے تمام دینی مدارس کی طرف سے جناب عالی کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔
انیل کمار کہتے ہیں کہ مجھے عبادت گاہوں میں کام کرکے خوشی محسوس ہوتی ہے چاہے وہ مسجد ہو، مندر ہو یا گردوارا۔ میرے لیے سب برابر اور بھائی بھائی ہیں تاہم ایک بار کسی نے ہندو ہونے کی وجہ سے مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
علامہ فدا حسین مظاہری نے علامہ عابد الحسینی کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی، اسی موقع پر قومی امور اور خصوصاً ضلع کرم کے موجودہ حالات پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتوں کا پاکستان کو جانب دارہونے پر مجبور کرنا درست نہیں، کسی دباؤ کی صورت میں چین سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
اپنے ایک بیان میں خطیب مسجد باب العلم نے کہا کہ مسلمان باہمی اتحاد کیلئے کام کریں، کیونکہ اس وقت ہمارا دشمن ہمارے مقابلے میں متحد ہے اور اگر ہم اب بھی یکجا نہ ہوئے تو مزید نقصان ہوگا۔
علامہ سید محمد دہلوی (1391-1317 ھ) کا شمار پاکستان کے علماء ،خطباء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ برصغیر میں آپ خطیب اعظم سے جانے جاتے ہیں۔ سنہ 1950ء کو پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ طلبہ ہاسٹل، یتیم خانے اور لائبریریاں آپ کی سماجی خدمات میں شمار ہوتی ہیں۔ جنوری سنہ 1964ء کو پاکستان میں پہلا شیعہ اجتماعی پلیٹ فارم شیعہ مطالبات کمیٹی اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان اور آپ سربراہ منتخب ہوئے۔ شیعہ مطالبات کو حل کرانے میں کلیدی کردار رہا۔ کئی تالیفات کی ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک دستیاب ہے۔
یقینا یہ انتخابات پوری دنیا میں تمام مسلمانوں خصوصا اہل تشیع کے لئے ہمیشہ باعث فخر و مباہات رہےہیں۔ ایران کے زمانہ شناس عوام نے آپ کو حوزہ علمیہ کے ایک فرزند کے عنوان سےصدارتی منصب کے لئے منتخب کیا۔ یہ بات تمام مسلمانوں خصوصا شیعیان اہل بیت کے لئےانتہائی خوشی اور امید کا باعث ہے۔