صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
بزرگ عالم دین مفسر قرآن، سربراہ جامعہ الکوثر اسلام آباد حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہاکہ اکستان میں مدارس کے بنانے والوں میں صف اول میں شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس کا نام ہے،مشکل حالات میں جامعۃ المنتظر شروع کیا۔سینکڑوں طلبا آپ کے شاگرد ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے امام حسن مجتبیٰ علیہ سلام کے یوم ولادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام حسن ع کا ہر عمل حکمت و دانش سے لبریز اور ہر قول اپنے اندر علم کے خزانے سمیٹے ہوئے تھا۔آپ سراپا حق و صداقت تھے۔
انہوں نے کہاکہ شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس ؒ نے قم ونجف کے مراجع کی تقلید کو رواج دیا۔ آپ تمام علوم پر تسلط رکھتے تھے،چھٹی بالکل نہیں کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے طالب کا وقت ضایع کیا تو ہم سے باز پرس ہو گی۔ہرمحفل میں تربیت کرتے تھے۔آپ نے پندرہ سال کلیۃ القضاء میں تدریس کی۔
حجۃ الاسلام مولانا انیس الحسنین خان نے کہا کہ شیخ الجامعہ کی خدمات کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کو ان کی سیرت سے آگاہ کرنے کے لیے اس پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔اتنے بزرگان کا ان کے لیے منعقد پروگرام میں جمع ہونا آپ کی خدمات کا اعتراف ہے۔کسی ایک پروگرام میں ان کی شخصیت پر مکمل روشنی ڈالنا ممکن نہیں،ہر میدان میں آپ کی خدمات ہیں۔آپ مدرس،خطیب اور مصنف تھے۔
یرانی دینی مدارس کے سربراہ اور امام جمعہ شہر قم آیت اللہ علی رضا اعرافی نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی ہمشیرہ کے انتقال پر تسلیت پیش کی ہے۔
بزم علم وفن سکردو کے زیر اہتمام جشن ولادت باسعادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی مناسبت سے سحر ہاؤس سکردو میں شعر و ادب کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی ، جس کی صدارت اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سید امجد زیدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی حجۃ الاسلام شیخ ذوالفقار انصاری تھے ۔
دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ خدمت زائرین قم کی جانب سے ماہ مبارک رمضان میں روضہ معصومہ قم (س) میں عشرہ رحمت، عشرہ مغفرت، عشرہ نجات کے عنوان سے ماہ مبارک رمضان کی محافل و مجالس کا انعقاد کیا گیا ہے۔
ایرانی بزرگ عالم دین حوزہ علمیہ اصفہان کے سربراہ آیت اللہ العظمیٰ مظاہری علالت کے باعث ہسپتال میں داخل ہوگئے۔
اسرائیل کو فلسطین کی زمین پر قائم کرنا بھی اسی مقصد کی خاطر تھا کہ خطہ میں عدم توازن ہو ، ان کاکہنا تھا کہ دنیا کی توجہ مسئلہ فلسطین سے ہٹانے کے لئے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم رکھا گیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ کس طرح عراق، ترکی،لیبیا، شام یمن ان تمام مشرقی وسطیٰ کے ممالک کو ایک دوسرے سے برسرپیکار کردیا گیا اور سب سے خطرناک دا عش کو کس نے بنایا۔