صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پہلے ہی ان ر وشن اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے وطن عزیز کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا لیکن اب یہ ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف اور گڈ گورننس کو قائم کرکے قائد اعظم کے پاکستان کو موجودہ گھمبیر اور سنگین مسائل و مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، پورا ملک سیلاب سے متاثر ہے، آج پھر اسی جذبے کی ضرورت جو ایثار کا جذبہ قیام پاکستان کے وقت تھا۔
برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے نجات دہندہ،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی آج انتہائی عقیدت واحترام سے منائی جائیگی۔
مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر ریاض رضی نے کہا کہ دینی تعلیم میں جس قدر چاشنی ہے اُس کا عشر عشیر مروجہ علوم میں نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت و اخلاق پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
یاد رہے کہ اس علاقے میں ایک معیاری دینی درسگاہ کے قیام کی ضرورت کو ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا ہے جس کے قیام کو بالآخر شیخ الجامعۃ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کی مساعی جمیلہ اور خصوصی اقدامات نے ممکن بنایا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ آج بھی پاکستان میں شرح خواندگی بمشکل 50فیصد سے کچھ بہتر ہے جوغیر تسلی بخش ہے اس کےلئے تعلیم کا سالانہ مختص کیا جانیوالا بجٹ ناکافی اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زیور تعلیم سے محروم بچوں کو علم کی دولت سے آراستہ کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔
انہوں نے مذید کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو عراقی سربراہ مملکت سے بات کرنا چاہیئے مگر پاکستانیوں کو اس عبادت سے محروم رکھا جا رہا ہے اگر اس مسئلے کا حل نا نکالا گیا تو اسلام آباد کی جانب عوامی مارچ کیا جائے گا ۔ایک طرف لوگ سیلاب میں ڈوبے ہیں دوسری طرف لوگوں کا پیسہ عراقی حکومت کے ظلم کے سبب ڈوب رہا ہے افسوس حکومت کو جو کردار ادا کرنا چاہیئے وہ نہیں کر رہی ہے
فاضل مقررین نے مرجع عالیقدر کی علمی و قلمی زحمات اور دینی و ملی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دنیائے تشیع میں شہید باقر الصدر رضوان اللہ تعالٰی علیہ اور مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی السیستانی دام ظلہ و دیگر عظیم شخصیات کا جو ڈنکا آج بھی بج رہا ہے تو وہ سب کی سب حضرت آیت اللہ العظمی آقائے خوئی رضوان اللہ تعالٰی علیہ کی شاگردی کا مرہون منت ہے۔
علامہ امین شہیدی نے مزید کہا کہ اس مسئلے کا حل وزارت خارجہ کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ دوسرے ممالک کو وزیر خارجہ ہی قائل کرنے کا پابند ہے تاہم جس ملک کے وزیر خارجہ کا یہ رویہ ہو توعراقی بھی اس ملک کے باسیوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سزااور جزا ایک عمل ضرورہے مگر ہر قدرتی آفت کو” عذاب “کے زمرے میں ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا، اس میں انسانی نا اہلی، عدم توجہی ، بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے اور پیشگی اطلاعات نہ دینے کے عوامل اور ناقص کارکردگی بھی شامل ہو تی ہے ، گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل سیلاب ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کا ملک کو سامنا ہے مگر کیا امداد کے سوا کوئی اقدام اٹھایاگیا ؟