صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تقریب کے آخر میں ورلڈ فیڈریشن کی جانب سے مہمان گرامی محترم جناب صفدر جعفر صاحب اور محترم جناب مولانا شیخ نادر جعفر صاحب نے خطاب کیا اور جامعۃ الکوثر کی شاندار علمی و روحانی خدمات پر شیخ الجامعہ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے پر عوام پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں، اس نا اہل ٹولے کو مسلط کرنے والے ان تمام مشکلات کے ذمہ دار ہیں، غریب عوام کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، حکومت کا ہدف عوامی مفاد نہیں اپنے اقتدار کو دوام دینا ہے،
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمی سید کاظم حائری نے ولی فقیہ رہبر مسلمین کی اطاعت کا پیغام دے کر عراق سمیت عالم اسلام اور عالم تشیع پر حجت تمام کی ہے ان کے اس واضح اور صریح پیغام کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا مسلمان سات آٹھ سو سال تک حاکم رہے تو ترقی کرتے رہے اور سب سے آگے رہے لیکن اس کے بعد جب وہ دوسروں کی غلامی میں تین سو سال تک رہے تو وہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ غلامی کی زنجیریں ابھی تک نہیں توڑ پائے۔
ان تمام تاخیری حربوں کے پیچھے عراق اور پاکستان حکومت کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ لاکھوں ہم وطن اس وقت بے سرو سامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے موجود ہیں جن کا کوئی پُرسان حال نہیں، ایسے وقت میں پوری قوم کو انسانیت کی خدمت و جذبے کے ساتھ میدان خدمت میں پورے عزم کے ساتھ اُترنا ہوگا۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اس وقت سارے سیاسی اختلافات بھلا کر ہم پوری قوم ایک ٹیم کی طرح اس مصیبت میں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں۔
گوٹھ میرند خان رند میں مقامی عزاداروں کیجانب سے ایس یو سی رہنما کو مجلس عزا سے خطاب کی دعوت دی گئی تھی، تاہم شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث جمع ہونیوالے سیلابی پانی کیوجہ سے امام بارگاہ تک پہنچنے کے راستے میں شدید مشکلات درپیش تھیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال پر تبصرہ کرے ہوئے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بارشوں اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کیلئے انتظامات موجود تھے جو بہتر اور کامیاب رہے ۔