صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھٹے امام ؑ کے دور میں اسلامی افکار و نظریات کی ترویج اور علمی بحث و مباحثوں سے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات کو فروغ حاصل ہوا۔
ملی یکجہتی کونسل کے مجلس قائدین کے ایک اہم اجلاس، منعقدہ اسلام آباد میں اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی صاحب نے اپنی گفتگو میں ”ربا“ کے عنوان سے جماعت اسلامی کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں پر انہیں مبارکباد دی
کافی افراد ان کی گفتگو سے اپنی عملی زندگی میں تبدیلی لاتے تھے ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا جو پورا نہیں ہوگا
مقررین نے مسلم اُمّہ کے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی نمک خواری کرنے کی بجائے فلسطینیوں کے حق واپسی اور بنیادی حقوق کے دفاع کے لئے عملی اقدامات انجام دیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملہ پر نظر ثانی کریں۔
اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی، مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی اور سیکریٹری اطلاعات نے شرکت کی علاوہ ازیں مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن اور وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے بھی شرکت کی۔
قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے وزیر اعلیٰ کی تجویز کو عوام کی فلاح و بہبود اور جی بی کی تعمیر و ترقی کے لیے مثبت سوچ کا حامل قرار دیا اور ان کو یقین دلایا کہ انکی پیشکش پر غور و خوص کے بعد اسلامی تحریک پاکستان جلد فیصلہ کرے گی۔
دنیا میں ہونیوالے تمام فسادات کی جڑ امریکہ ہے اور اسرائیل اس کا ثمر ہے، اسرائیل کے ناپاک وجود سے عالم اسلام کے قلب میں خنجر گھونپا گیا۔ 14 مئی 1948 کو فلسطین کی مقدس سرزمین پر برطانیہ کی مدد سے صیہونی طاقتوں نے اسرائیل پر قبضہ مسلط کیا اور اس کے 2 دن بعد ہی 16 مئی کو امریکہ نے اس قبضہ کو تسلیم کیا اور اسرائیل کا معترف ہوا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ایک طرف یوم امن منایا جارہاہے مگر دوسری طرف بدامنی کو مسلسل شہ اور پش پناہی کی جارہی ہے، عالمی قوتوں کو اس دوہرے معیار کو ترک کرنا ہوگا، 16مئی 1948ءکو جس طر ح ناجائز، قابض صیہونی ریاست کو قائم کیاگیا اسی روز دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بدامنی کا بیج بودیاگیا تھا۔
وہ اپنے آپ میں ایک تربیت گاہ تھے ان کے بیانات سے کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات بھی استفادہ کرتے تھے اور ان کے بیانات مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر جوانوں تک پہنچتے تھے۔