صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مرکزی نائب صدر تنصیر حیدر کا کہناہے کہ ماہ صیام کے دوسرے عشرے میں قرآن کے تمسک کیلئے خصوصی محافل کا اہتمام کیا جائے گا۔ یونٹس میں خصوصی دروس ہوں گے جن میں علمائے کرام قرآن و امامت کے موضوع پر نوجوانوں کی فکری تربیت کریں گے اور نوجوانوں کوقرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
علامہ ساجد نقوی نے قبلہ اول پر اسرائیلی ناجائز قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی اور اسرائیل نے ظلم کی انتہاءکردی،ہم فلسطینیوں کی آئینی ،جمہوری اور اخلاقی حمایت جا ری رکھیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ غلامی کی سوچ رکھنے والا کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا ہے کیوں کے اسلام ہمیں آزادی کا درس دیتا ہے اور کسی یہود کی غلامی کسی مسلمان کو برداشت نہیں چاہئے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا ”روز مواخات “ 12 رمضان المبارک کی مناسبت سے کہنا ہے کہ روز مواخات کو یاد رکھتے ہوئے ایک بار پھر ” اخوت“ کی تجدید کی جائے اور انصار و مہاجرین والا جذبہ بیدار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جائیں تاکہ مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا جاسکے۔
ہدایت نامے کے مطابق بالوں کو مناسب طریقے سے ڈھانپنا ہوگا، دوپٹہ اور حجاب کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، کھلے بالوں والی لڑکیوں کو یونیورسٹی کیمپس آنے کی اجازت نہیں ہوگی
ملیکة العرب‘ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری ؑ نے خواتین میں سب سے پہلے اسلام پر عمل پیرا ہوکر اورتصدیق رسالت کرکے ایک دانشمند خاتون ہونے کا ثبوت دیا
اسلامیات کے نصاب سے متنازعہ شخصیات کے ابواب حذف کیے اور ان کی جگہ مسلمہ اور متفقہ اسلامی شخصیات شامل کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین مذہبی تعلیم کے حوالے سے کسی ایک مسلک کی تعلیمات کو کسی دوسرے مسلک پر مسلط کرنے سے منع کرتا ہے۔
دعا جیسی نعمت سے تمام نعمتیں مل سکتی ہیں،جسمانی عبادات کے علاوہ مالی واجبات کی ادائیگی بھی لازم ہے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل آئین کی حقیقی معنوں میں بالادستی میں ہے، افسوس ملک میں مضبوط و مربوط جمہوری نظام نہ ہونے کے سبب ہر کچھ عرصہ بعد مسائل نے جنم لیا ، بار بار آئین معطل کیا جاتارہا، ایمرجنسی نافذ کی جاتی رہی، آئین کو پس پشت ڈالا جاتا رہا ہے ضرورت ہے آج آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کےلئے تمام طبقات متفق و متحد ہوں