صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے مہتمم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری نے دو دن پہلے کابل اور آج مزار شریف میں ہونیوالے سانحہ پر گہر ے دکھ اور سوئیڈن اور ہالینڈ میں اسلاموفوبیا کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ قرآن کتاب انقلاب ہے، اس کیساتھ مضبوط فکری تعلق ہی عروج کا ذریعہ ہے، رمضان المبارک کو قرآن سے ایک نسبت خاص ہے۔ فرقہ واریت سمیت تمام سماجی برائیوں کا علاج قرآن میں موجود ہے۔
یومِ یکجہتی فلسطین کے موقع پر علمائے کرام اسرائیلی دہشتگردی کیخلاف اظہار خیال کریں گے، جبکہ احتجاجی مظاہروں میں فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔
نشست سے خطاب کے دوران رہنما جعفریہ الائنس نے کہا کہ ہم علماء کرام اور تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اور بھرپور انداز میں مجالس اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کرکے اتحاد اور وحدت کا عملی مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا اقوام عالم کے سامنے باوقار زندگی گزارنے کا واحد طریقہ امریکی غلامی سے انکار ہے۔ امریکہ کی دوستی وطن سے دشمنی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیٹر گیٹ سکینڈل پر عدالتی کمیشن بننا چاہئے اور اس کی شفاف تحقیقات کی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ سحرو افطار میں دیے جانیوالے کھانے کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کروانے کیلئے ماہر کک کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں، اس کے علاوہ معتکفین کو 24 گھنٹے میڈیکل ایڈ دستیاب ہوگی
انھوں نے کہا کہ امام حسن علیہ اسلام پیغمبر اسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزند رسول ص کا درجہ دیا ہے اور اپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے ۔آپ رسول اسلام ۖکے فرزند اور اُن کے پھول ہیں،آپ حلم ،صبر،جود و سخاوت میں رسول ۖ کے مشابہ تھے ،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل ہائی سکول میں ہونیوالے سانحہ، میہڑ ضلع دادو سندھ میں رات گئے لگنے والی آتش زدگی کے سانحات اور سوئیڈن و ہالینڈ میں کی جانیوالی گستاخیوں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔
گذشتہ سال ماہ شوال سے شروع کیا گیا ماہانہ تربیتی ورکشاپ کا یہ سلسلہ ماہ شعبان المعظم میں اختتام پذیر ہوا جس کے مطابق پورے سال میں نو ورکشاپس کا انعقاد ہوا ہر ورکشاپ تین یا چار موضوعات پر مشتمل تھی اساتذہ کرام نے تفسیر قران ، تاریخ اسلام ، قصص القران ،اور احکام دین کے موضوعات پر مفید دروس دیے ۔