صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خانہ فرہنگ ایران لاہور کے ڈائریکٹر جنرل جعفر روناس نے کہا پچھلے سو سالوں سے یہودی امریکی و برطانوی منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مادری زمین پر قبضہ کرکے اپنی سرزمین بنانا چاہتے ہیں اور قابض قوتوں کی زمین دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ اصلی مالکوں کا حصہ کم ہو کر 15 فیصد رہ گیا ہے۔
مسئلہ فلسطین و کشمیر بین الاقوامی دنیا کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں، امت مسلمہ کو متحد ہو کر قبلہ اول کی آزادی کیلئے مشترکہ جدوجہد کر نا ہوگااور فلسطینیوں کو اسرائیل کے شکنجے سے آزادکرا نا ہوگا۔
علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ نماز میں درود مسنون ہے جیسے ترک نہیں کیا جا سکتا۔درود کے معاملے پر سابق حکومت نے نصاب تعیلم میں جو تبدیلی کی وہ مسلمانوں میں نفاق کا باعث بنی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل نے بدامنی کو اپنی بقا کے لیے ہتھیار بنا رکھا ہے۔اسرائیل کی غاصب ریاست کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔فلسطین کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات ہمارے لیے بہترین لائحہ عمل ہے۔یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے اسے ضیائی پاکستان نہیں بننے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، دشمن جعلی پیج بنا کر افواہیں پھیلاتے ہیں، ہمیں ان کا راستہ روکنا ہو گا اور دشمن کی کاوشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی حمایت ایک شرعی تقاضا ہے۔امریکہ، بھارت اور اسرائیل دور عصر کے سب سے بڑے ظالم اور غاصب ہیں۔ ان کے خلاف ملت تشیع بھرپور انداز میں احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ القدس پر اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے کا وقت بہت قریب ہے۔
وفد نے وفاقی وزیر کی توجہ خاص طور پر آئین میں دی گئی مذہبی آزادیوں کی طرف دلوائی اور بتایا کہ آئین پاکستان بچوں کو ایسی مذہبی تعلیم اور ہدایات سے تحفظ فراہم کرتا ہے جن کا تعلق ان کے مذہب سے نہ ہو۔ وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ ایک مسلک کا فہمِ دین زبردستی سب بچوں کو پڑھانے سے ملک میں قائم مذہبی رواداری متاثر ہوگی اور حوالے سے اہل تشیع میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللیہان اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے چیئر مین پیپلز پارٹی کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے۔عالمی استکباری طاقتیں اس خطے کو عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتی ہیں۔اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو مادر وطن کی سالمیت و بقا کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔