رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
محترمہ حنا تقوی نے کہا کہ امام زمانہ علیہ السلام سرچشمہ ولایت کا ایسا گوہر نایاب ہیں کہ جنکے وجود پر عقیدہ ایمان کی تکمیل کا سبب بنتا ہے آج ہر ایک چاہنے والے کی زبان پر امام کا ذکر جاری ہے،
آخر میں پرچم بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی زیارت کروائی گئی اور علماء کرام، مومنین و کارکنان نے مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی سے ملاقات کی۔
اعمال ہائے نیمہ شعبان کی محافل میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں خواتین کیلئے خصوصی محافل کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ملکی سلامتی، امن و امان اور امت مسلمہ کی سربلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہر کے بعض علاقوں میں رات بھر آمد امام زمانہؑ کی خوشی میں آتش بازی کا مظاہرہ بھی ہوتا رہا۔
دنیا میں باطل قوتیں مجتمع ہو رہی ہیں۔عالمی آثار سے لگتا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور قریب ہے۔ان کے لشکر میں شامل ہونے کے لیے ہمیں اپنے عمل و کردار کو بے داغ بنانا ہو گا۔امام زمانہ علیہ السلام کی تعجیل کے لیے محض خواہش کافی نہیں بلکہ باعمل ہونا شرط ہے۔ہمیں اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم اپنے مولا و آقا کا سامنا کر سکیں۔
ہ مقدس رات قرب خداوندی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے،رب العزت ہمیں ان مقدس سعاتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے،الہی آمین
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی نے کہاکہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطیٰ میں ناجائز اور قابض و ظالم سے زیادہ کچھ نہیں، اب ایک نئے دھوکے اور عیاری کے انداز میں اس کے مصداق کہ ”نیاجال لائے پرانے شکاری“ نام نہاد معاہدہ ابراہیمی کے عنوان سے مسلم ممالک اور باالخصوص مسلم امہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں
57 اسلامی ممالک میں سے ایک ملک کے علاوہ اکثر ممالک کے اکثر قوانین اسلام کے خلاف ہیں ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے پیش کردہ بلوں کی اسلامی شقوں کو اسمبلی میں پیش ہی نہیں ہونے دیا جاتا
انسانیت کا فطری تقاضا ہے کہ جب بھی انہیں مشکلات گھیرے میں لیتی ہیں ، ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی ہے ، انسانی معاشروں میں نا انصافی، بے عدلی، تشدد اور برائیوں کا رواج ہوتا ہے تو وہ ایک مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں کہ جو انہیں مشکلات سے نکالے۔
عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہمیں اپنی طاقت و ہمت کے مطابق اقدام کرنا چاہئے، اجتماعی شادی کی تقریب احسن اقدام ہے کیونکہ سادہ اور پر وقار تقریبات ہمارے معاشرہ کی رواجی مشکلات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔