صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے آل سعود کی بادشاہت کے ہاتھوں 81 قتل ہونے والوں میں 41 شیعہ مسلمانوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وحی ا ور رحمت کی سرزمین پر ایک دن میں درجنوں بے گناہوں کے سر قلم کرنا سفاکیت ہے۔
آج خود اقوام متحدہ نہ صرف بے بس بلکہ سیکرٹری جنرل کے اعترافات کے مطابق بے اختیار نظر آتا ہے مگر کیوں نہ ہو کہ !جس ادارے نے مختلف اداروں میں استعماریت کی اجارہ داری کو جس بھی انداز میں ہو قبول کیا ، ویٹو جیسا عالمی ہتھیار چند عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں دیدیا ہو ،
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس دھشت گردی کی شدید مذمت کرتے ھیں یہ نہتے نمازیوں پر حملہ پوری قوم اور امت پر حملہ ھے یہ دھشتگردی اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ھے اس لئے سب سنی شیعہ کو ملکر اس کا مقابلہ کرنا ھوگا
شبیہ پیغمبر حضرت علی اکبر علیہ السلام جامع کمالات اور خصوصیات کے مالک تھے۔انہوں نے معرکہ حق و باطل کے دوران جس جواں مردی، حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا نوجوانوں کے لیے وہ مشعل راہ ہے۔
علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کا پاکیزہ خون اقوام کے لیے سعادت و پاکیزہ زندگی کا موجب ہے۔زندہ و بیدار قومیں اپنے محسنین کو یاد رکھتی ہیں اس لیے ہمیں شہداء کی یاد منانی چاہیے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنا چاہیئے اور شہداء کے پسماندگان کا خیال رکھنا ہماری اخلاقی و انسانی ذمہ داری ہے۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے 11 تا 17 شعبان المعظم ’’ہفتہ فکرِ مہدویت‘‘ کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں خصوصی مذاکرے اور محافل کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں نوجوانوں کو ظہورِ امام زمانؑ اور انقلابِ امامؑ کیلئے زمینہ سازی میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بتایا جائے گا۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور سینیئرز خصوصی نشستوں سے خطاب کریں گے۔
ملک کو عدم استحکام، معاشی مشکلات اور اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے۔ نصاب کی تدوین کا کام دھوکے بازوں کے سپرد کیا گیا ہے۔
شہید سلمان حیدر اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے، سلمان حیدر کا قتل شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی سازش اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے
میں اپنی قوم سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان میں شیعہ کے لیے حالات ایسے پیدا کر دیے گئے ہیں کہ ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ اپنی حفاظت خود کرنے کا نظام ترتیب دیں