رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
شیعہ قومی کانفرنس کا تعلق وطن کی سالمیت کے لیے ہے۔ قائد اعظم کے بیانیہ سے انحراف کرنے والوں کے خلاف یہ قومی کانفرنس ہے۔ جو کھیل وطن عزیز کو دو لخت کرنے کے لیے ماضی میں کھیلا گیا تھا، آج وہی کھیل پھر کھیلا جا رہا ہے۔ ملک کو عدم استحکام، معاشی مشکلات اور اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں نے سلمان حیدر کو اس وقت دہشتگردی کا نشانہ بنایا جب وہ گھر کے باہر اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے، انہیں سر اور سینے میں چار گولیاں لگیں، سلمان حیدر کو زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیۃ اللہ حافظ ریاض حسین نقوی نے ایک پیغام میں آیۃ اللہ العظمی جوادی آملی کی خدمت میں ان کے بھائی کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت و تسلیت پیش کی ہے۔
پی ایل ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران سیکریٹری پریس کلب رضوان بھٹی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین انسانیت کا سب سے اہم ترین مسئلہ ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہماری سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ ہم فلسطین کاز کی حمایت کریں۔
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے جامعہ شہید عارف الحسینی میں منعقدہ عظیم الشان پروگرام (مجلس تعظیم و تکریم برائے شہدائے قصہ خوانی مسجد امامیہ) میں شرکت اور خطاب کیا۔
ایجنڈے کے مطابق یکساں قومی نصاب ، وفاق المدارس کی کارکردگی، مدارس طالبات میں شہادةالعالمیہ کی تدریس کا جائزہ اور مشکلات کا حل، مجلس مشاورت برائے مدارس طالبات کی فعالیت ،امتحانی امور ،تحریر و تقریر کے لیے طالبات کی تربیت، مدارس طالبات کے مابین علمی مسابقات، تربیت معلمات پروگرام،رجسٹریشن فارم ، کوائف اور رجسٹریشن فیس کے معاملات ایجنڈے پر ہیں۔
کانفرنس میں سید راحت حسین الحسینی ، ہیئت آئمہ جماعت گلگت اور انجمن امامیہ گلگت کی طرف سے علامہ شیخ نیئرعباس مصطفویٰ کانفرنس میں نمائندگی اور شرکت کریں گے
سپریم کورٹ کے فیصلے بھی قومی زبان اردو میں تحریر کرائے جانے چاہیں تاکہ سپریم کورٹ میں اپنے فیصلوں پر عملدرآمد اور اردو زبان کا عملی استعمال و نفاذ ہو تا دکھائی دے ۔
وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے 172 ارکان کی حمایت ضروری ہے، اپوزیشن کے پاس 163 ارکان موجود ہیں اور اسے مزید 9 ارکان کی حمایت درکار ہے۔