رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جامعہ سراجیہ نعیمیہ اور تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام پریس کلب سے ایوان اقبال تک ریلی بعنوان ’’پیغام شرم وحیا مارچ‘‘ نکالی گئی۔
احتجاجی مظاہرہ میں خانوادہ شہدا کے علاوہ عمائدین پروا، پروا کی غیور عوام نے کثیر تعداد میں شریک ہو کر ڈیرہ، کراچی انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے احتجاجاً بند کر دیا
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی اور مولانا ضیغم عباس چوہدری نے جامعہ الکوثر میں علامہ شیخ انور علی نجفی سے ملاقات کی اور نصاب تعلیم سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت و ریاست آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کر سکی کہ اس دہشتگردی کیلئے کون سے عوامل ہیں، وہ اتنے طاقتور ہیں کہ جب چاہیں، جہاں چاہیں پاکستانی عوام کو دہشتگردی کا نشانہ بنا لیں۔
گورنر ہاوس میں کانفرنس سے خطاب میں منہاج الحسینؑ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عراق میں جب داعش نے شیعہ، سنی اور مسیحی خواتین کو کنیزیں بنا کر بازار میں فروخت کیلئے پیش کیا تو آیت اللہ سیستانی نے اپنے مقلدین کو حکم دیا کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت دین و عقیدہ تمام قیدی عورتوں کو پیسے دے کر خریدا جائے اور ان کو عزت و تکریم کیساتھ ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، اور اس حکم پر عمل کیا گیا، یہی وہ سیرت النبی(ص) کا عملی مظاہرہ تھا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحہ پشاور کے خلاف بھرپور احتجاج اور یک آواز ہونے پر پوری قوم کا شکریہ ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شیعہ ایک بیدار اور جرات مند قوم ہیں۔ہم کربلا کے ماننے والے ہیں اور کربلا کے ماننے والے کبھی بھی ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔پشاور شہداء کے لہو نے پوری قوم کو ظلم کے خلاف ایک نئی تحریک دی ہے۔
قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی شیعہ علماء کونسل اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام سانحہ پشاور کیخلاف یوم احتجاج منایا گیا،
ریلی سے خطاب میں وفاق المدارس الشیعہ کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نےکہاکہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اطلاعات کہتے ہیں انہیں قاتلوں کا پتہ ہے تو وہ پھر گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت امن وامان قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اہل تشیع پاکستان کو بنانے والے ہیں ۔اور اب ان کی نسلوں کو مساجد میں قتل کیا جارہا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر شہر میں اہل تشیع کو شناخت کرکے بیدردی سے قتل کیا جارہا ہے اور تاحال ریاست نے ان کے تحفظ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا، جس سے ملت تشیع میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔