رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
سیاست دان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں، وہ زبان استعمال ہو رہی ہے جو کسی بھی مہذب معاشرہ میں زیب نہیں دیتی۔ سوشل میڈیا اور جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کے خلاف گندی زبان اور گالیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
اس موقع پر جامعہ شہید عارف الحسینی کے مولانا جمیل حسن، مولانا عابد شاکری، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد نقوی، ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخوندزادہ اور کثیر تعداد میں علما و عمائدین موجود تھے
اس سانحے پر پورے ملک سے جو ردعمل آیا، تمام مذاہب اور مسالک کے علمائے کرام اور عوام کی طرف سے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں، اس اتحاد کے ذریعے ہی دہشتگردی کو شکست دیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نصاب کمیٹی کے کنوینیر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب متنازعہ ہے اس میں مکتب تشیع کے عقائد اور دینی تعلیمات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
اس معاملے پربھارت سے وضاحت طلب کی ہے۔ واقعہ کے اصل محرکات پرغورکررہے ہیں۔ ابھی چائے ٹھنڈی نہیں ہوئی اوربھارت کواورطلب ہورہی ہے۔
22 مارچ کو وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی مجلس اعلی اور مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا
اپنے ایک بیان میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ کہا کہ قومی ایکشن پلان کے مکمل نفاذ سے کراچی سمیت ملک بھر میں جرائم کا مکمل خاتمہ ہوگا۔
اس موقع پر ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا غلام باقر گھلو ، مولانا سید حسن رضا نقوی مولانا منور عباس قمی مولانا قیصر عباس قمی بھی ہمراہ تھے.
کانفرنس میں شرکت کے لیے بزرگ عالم دین علامہ افتخار حسین نقوی،سابق وزیر تعلیم منیر حسین گیلانی، شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ عارف واحدی، ماہر تعلیم سید امتیاز نقوی،جید علمائے کرام و عمائدین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔